ترک صدر نے ترکی میں فرانسیسی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کا حکم دے دیا

فرانس میں ترک اشیا لینے سے منع کیا جا رہا ہے، ترک عوام بھی فرانسیسی مصنوعات نہ خریدیں: طیب اردگان کا بیان

muhammad ali محمد علی پیر اکتوبر 19:55

ترک صدر نے ترکی میں فرانسیسی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کا حکم دے دیا
استنبول (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2020ء) ترک صدر نے ترکی میں فرانسیسی مصنوعات کے مکمل بائیکاٹ کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق دنیا بھر میں فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم چلائے جانے کے بعد اس حوالے سے ترک صدر طیب اردگان کی جانب سے بھی اہم بیان جاری کیا گیا ہے۔ ترک صدر نے حکم دیا ہے کہ ترکی میں بھی فرانس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اطلاعات ہیں کہ فرانس میں بھی ترک مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جا رہا ہے، اس لیے ترک عوام کو کہتا ہوں کہ فرانسیسی مصنوعات نہ خریدیں۔ ترکی کے علاوہ مختلف مسلم ممالک میں بھی فرانس کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ کئی اسلامی ممالک نے فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ دو خلیجی ممالک کویت اور قطر فرانسیسی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کرنے والے پہلے 2 ممالک تھے، جس بعد دیگر ممالک بھی ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ کچھ روز قبل آزادی اظہاررائے کے سبق کے دوران گستاخانہ خاکے دکھانے والے استاد سیمیول پیٹی کا سرقلم کیے جانے کے کے واقعے کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے زور اعلان کیا تھا فرانس خاکوں سے پیچھے نہیں ہٹے گا، سیمیول پیٹی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اسلام پسند ہمارا مستقبل چاہتے ہیں۔ فرانسیسی صدر کے اس بیان کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں نے فرانس کیخلاف آواز بلند کی ہے۔

اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے بھی بھرپور انداز میں آواز بلند کی گئی۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ چلا کہ ملک میں فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا جائے۔ اس معاملے کے حوالے سے گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی اہم بیان جاری کیا گیا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی صدر نے لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا۔ گستاخانہ خاکوں کی حوصلہ افزائی سے اسلام اور پیغمبراسلام کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جہالت پر مبنی بیانات، نفرت، اسلاموفوبیا اور انتہاء پسندی کو فروغ دیں گے۔ فرانسسی صدر انتہا پسندی مسترد کرنے کی بجائے تقسیم بڑھارہے ہیں۔ میکرون تقسیم کے بجائے انتہاء پسندی روکیں۔