چاند پر پانی کا انکشاف ، ناسا کے سائنسدانوں نے تصدیق کردی

چاند کی سطح پر ایچ ٹو او کی کثیر تعداد ٹھوس حالت میں موجود، مخصوص درجہ حرارت پر پگھلا کر پانی کی شکل دی جاسکتی ہے، ناسا کے سائنسدانوں کا دعویٰ

Shehryar Abbasi شہریار عباسی منگل اکتوبر 00:12

چاند پر پانی کا انکشاف ، ناسا کے سائنسدانوں نے تصدیق کردی
لاہور (اُردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اکتوبر2020ء) ناسا کے سائنسدانوں نے چاند پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کر دی ہے۔ غیر ملکی خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے چاند کی سطح کا معائنہ کرنے کے دوران سورج کی شعاعوں کی مدد سے پانی کی موجودگی کا انکشاف کیا ہے۔ ناسا کے اے ایس اے گوڈارڈ سپیس فلائٹ سنٹر میری لینڈ کے سائنسدان کیزے ہنی بال اور دیگر نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کے کیمیائی اثرات دیکھے ہیں۔

چاند کی سطح پر پڑنے والی سورج کی شعاعوں کی ویو لینگتھ کی ریفلیکشن سے ایچ ٹو او کی بڑی مقدار میں موجودگی کی نشاندہی کی ہے۔ یہ ڈیٹا سوفیا نامی بوئنگ میں موجود ریفلیکٹنگ ٹیلی سکوپ کی مدد سے حاصل کیا گیا ہے۔ چاند کی سطح پر قطب جنوبی کے پاس 100 سے 400 ملین کے ایریے میں ایچ ٹو او کی نشاندہی کی گئی ہے۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی آف ملٹن کے سائنسدان مہیش آنند کا کہنا ہے کہ یہ بہت بڑی مقدارہے، ایک خاص درجہ حرارت پر اس کو پگھلا کر مائع پانی میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے چاند پر پانی کی موجودگی سے خلائی مشنز کو مزید فائدہ ہوگا اور اور یہ پانی پینے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا، اس سے ہائیڈروجن اور آکسیجن علیحدہ علیحدہ کر کے راکٹس میں بطور ایندھن استعمال کی جا سکے گی جبکہ آکسیجن کو علیحدہ کر کے سانس لینے کے قابل بھی بنایا جا سکتا ہے، جبکہ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ خلا میں پانی ایک مہنگی ترین سہولت ہوگی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل یہی خیال کیا جاتا رہا ہے کہ چاند کی سطح خشک ہے اور اس پر پانی یا آکسیجن موجود نہٰیں ہیں، پہلی مرتبہ 2009 میں بھارتی خلائی مشن چندریان 1 نے چاند پر پانی کی موجودگی کا دعویٰ کیا تھا لیکن اس وقت یہی لگا تھا کہ یہ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے سنگل ایٹم مالیکیولز ہیں، جو سورج کی روشنی سے ریفلیکٹ ہو رہے ہیں۔ تاہم اب ناسا کے سائنسدانوں نے چاند کی سطح پر پانی کی موجودگی کی تصدیق کردی ہے ۔

متعلقہ عنوان :