ُدُنیا کی کامیاب ترین ایمریٹس ایئر لائنز کی ترقی کے پیچھے پی آئی کے کردار تھا، دلچسپ کہانی سامنے آ گئی

ایمریٹس کوپہلا طیارہ پی آئی نے لیز پر دیا تھا، اماراتی پائلٹس کو ٹریننگ پاکستانی پائلٹس نے اور لائسنس بھی پاکستانی سول ایوی ایشن نے دیا، پہلی پروازبھی پاکستانی پائلٹ نے کراچی اُتاری تھی

Muhammad Irfan محمد عرفان منگل اکتوبر 11:05

ُدُنیا کی کامیاب ترین ایمریٹس ایئر لائنز کی ترقی کے پیچھے پی آئی کے ..
دُبئی(اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔27 اکتوبر2020ء) پاکستان ایئر لائن (پی آئی اے) کا شمار ایک وقت میں دُنیا کی بہترین ایئر لائنز شمار ہوتی تھی۔ پھر اس قومی فضائی کمپنی کا ایسا زوال شروع ہوا کہ یہ منافع بخش ادارے سے خسارے کے شکار ادارے میں بدل گئی۔ پی آئی اے کے زوال کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔ تاہم کچھ ایسے دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں جنہیں جان کر ہر کوئی حیران رہ گیا ہے۔

اماراتی اخبار دی نیشنل کی رپورٹ کے مطابق ایمریٹس ایئر کی کامیابی میں پی آئی اور اور پاکستانی پائلٹس کا بنیادی کردار ہے۔ایمریٹس نے 1985ء میں پی آئی اے سے ہی پہلا طیارہ لیز پر لے کر پروازوں کا آغاز کیا تھا۔ پی آئی اے نے 20 اکتوبر 1985ء کو ایمریٹس کو A300طیارہ لیز پر دیا۔ جو 25 اکتوبر کو کراچی کے ایئرپورٹ پر اُترا۔

(جاری ہے)

اس طرح ایمریٹس کی پہلی پرواز پاکستان ہی اُتری تھی۔

بات یہیں تک ختم نہیں ہوتی۔ یہ پہلی پرواز Ek600 اُڑانے والے بھی پاکستانی پائلٹ کیپٹن فضل غنی میاں تھے۔ کیپٹن فضل نے بتایا ” پی آئی کی جانب سے 18 اکتوبر 1985ء کو ایمریٹس کے لیے پائلٹس، فلائٹ اینڈ ایئرکرافٹس انجینئرز، مینٹیننس سٹاف اور دیگر ٹیکنکل سٹاف پر مشتمل 100 افراد دُبئی بھیجے گئے تھے تاکہ ایمریٹس ایئر کی ٹیسٹ فلائٹس شروع کی جا سکے۔

اماراتی پائلٹس کو ٹریننگ دینے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی۔ان اماراتی پائلٹس کی ساری ٹریننگ پاکستان میں ہی ہوئی، اور پھر انہیں پاکستان کی سول ایوی ایشن نے ہی کمرشل پائلٹ کا لائسنس جاری کیا تھا۔ “ پہلی ایمریٹس پرواز اُڑانے کے حوالے سے کیپٹن فضل نے بتایا ”میر ی ایمریٹس کی اس پہلی پروازیں سے بڑی گہری یادیں وابستہ ہیں۔ ہماری یہ تاریخی پرواز صبح 11:45 پر دُبئی سے روانہ ہو کر اپنے وقت پر کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کر گئی تھی ۔

وہ دن ہے اور آج کا دن، اس کے بعد ایمریٹس پرترقی، شہرت اور کامیابیوں کے دروازے کھُلتے چلے گئے ہیں۔“ یہ پرواز اس لحاظ سے بھی یادگار تھی کہ اس کے مسافروں کے استقبال کے لیے کراچی ایئر پورٹ پر ریڈ کارپٹ بچھائے گئے تھے۔ اکتوبر 2020ء میں ایمریٹس کی سروس کا آغاز ہوئے 35 برس مکمل ہو چکے ہیں۔ پی آئی کی ٹریننگ اور جہاز کی مدد سے ایمریٹس ایئر لائنز آج دُنیا کی بڑی ایئر لائنز میں شامل ہو چکی ہے۔

صرف 35 برس میں یہ کامیابی ناقابل یقین معلوم ہوتی ہے۔ جبکہ ایمریٹس کو اپنے پاؤں پر سہارا دے کر چلانے والی پی آئی اے شدید بحران کا شکار ہے ۔ کیا آج سے 35 سال پہلے کوئی پی آئی اے کے بارے میں یہ تصور کر سکتا تھا۔دو سال تک پاکستانی جہاز استعمال کرنے کے بعد 1987ء میں ایمریٹس نے اپنا ذاتی طیارہ ایئر بس A310 خریدلیا تھا۔ابتدائی سالوں میں ایمریٹس کی پروازیں صرف 14 مقامات پر روانہ ہوتی تھی۔

پھر 1992ء میں ایمریٹس نے مزید 7 بوئنگ 777s طیارے خرید کر مزید مقامات پر پروازوں کا سلسلہ شروع کیا۔ آج ایمریٹس کی پروازیں 150 مقامات پر روانہ ہوتی ہیں۔ جبکہ اسے جہاز لیز پر دینے والا پی آئی اے بُرے حالات کا شکار ہے۔ ایمریٹس دُنیا کی وہ پہلی ایئر لائن ہے جس نے سب سے پہلے جدید ترین مسافر بردار طیارے ایئربس A380 خریدا تھا۔ اس ڈبل ڈیکر طیارے پر پروازیں شروع کرنے کے بعد ایمریٹس کی مقبولیت اور ترقی میں مزید اضافہ ہوا۔