Live Updates

چلی میں تاریخی عوامی فیصلہ، ڈی ڈبلیو کا تجزیہ

DW ڈی ڈبلیو منگل اکتوبر 16:20

چلی میں تاریخی عوامی فیصلہ، ڈی ڈبلیو کا تجزیہ

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 27 اکتوبر 2020ء) اتوار 25 اکتوبر کا دن جنوبی امریکی ملک چلی کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا ہے، اس دن لوگوں نے بھاری اکثریت کے ساتھ ڈکٹیٹر آگسٹو پینوشے کے دور میں نافذ ہونے والے دستور کو دوبارہ تحریر کرنے کے حق میں ووٹ ڈالا۔ اس ووٹنگ کو چلی کے 'تاریک دور‘ میں نافذ کی گئی دستوری دستاویز کو منطقی انجام تک پہچانے کا ایک عمل بھی قرار دیا گیا۔

پینوشے کی آمرانہ حکومت تیس برس قبل جمہوری اقدار کے سامنے ٹھہر نہیں سکی تھی۔

نئے دستور کی تحریک

چلی میں ایک سال قبل شروع ہونے والے احتجاج اور مظاہروں سے جنم لینے والی عوامی تحریک کا ایک بڑا مطالبہ نئے دستور کو متعارف کرانا ہے۔ ایک ایسے دستور کی طلب عوام کو ہے، جس میں سماجی پالیسیوں کو زیادہ وقعت اور اہمیت حاصل ہو۔

(جاری ہے)

اس عوامی تحریک کی شدت کے سامنے ملکی صدر سیباستیان پینیرا کو جھکنا پڑا اور ایک نئے دستور کو تحریر کرنے کے مطالبے کو عوامی تائید ایک ریفرنڈم کے ذریعے حاصل ہوئی۔

اتوار کے ریفرنڈم میں تقریباً اسی فیصد لوگوں نے نئے دستور کے حق میں ووٹ ڈالا۔

ریفرنڈم کا پیغام

چلی میں ریفرنڈم کا انعقاد اور اس کا نتیجہ سامنے آ چکا ہے۔ اب جلد ہی نئے دستور کی تحریر کے عملی اقدامات سامنے آنا شروع ہو جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کی چلی کی عوامی تحریک لاطینی امریکی ممالک کے لیے ایک خاص پیغام کی حامل ہے۔

اس خطے میں پائی جانے والی غیر منصفانہ بے چینی کو پرامن انداز اور جمہوری اقدار پر عمل کرتے ہوئے تبدیل کرنا ممکن ہے۔ چلی کی تحریک میں پرتشدد واقعات بھی شامل تھے۔ اس تحریک میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد تین درجن سے زائد تھی۔ سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہونے والی جھڑپوں میں ساڑھے گیارہ ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حکومت نے اٹھائیس ہزار مظاہرین کو حراست میں لیا۔

ریفرنڈم سے قبل کی تحریک کے دوران انسانی حقوق کی ساڑھے آٹھ ہزار سے زیادہ خلاف ورزیاں بھی ریکارڈ کی گئیں تھیں۔

ایک پرامن دن

ڈی ڈبلیو کے تجزیہ کار ژوہان رامیریز نے اتوار پچیس اکتوبر کو ایک پرامن دن قرار دیا اور ان کا کہنا ہے کہ ووٹرز پولنگ کے دوران کورونا وبا کے ضوابط پر پوری طرح عمل کر رہے تھے، جو ان کے ذمہ دار شہری ہونے کا ایک ثبوت تھا۔

ان کا خیال ہے کہ ووٹ ڈالنے میں ذمہ داری کا احساس اس لیے بھی تھا کہ کسی بدامنی کی صورت میں حکومت ریفرنڈم کے انعقاد کو مؤخر کر دیتی کہ یہ وبا کے پھیلاؤ کا باعث ہو سکتا ہے۔ اس انداز میں ووٹنگ کو ایک متاثر کن عوامی رویے سے تعبیر کیا گیا۔ ریفرنڈم میں کامیابی کو نچلی سطح کے لوگوں کے لیے بھی ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔

مستقبل کے امور

ریفرنڈم میں نئے دستور کو تحریر کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

یہ ایک جمہوری دور کے نئے دستور کے حصول کی جانب پہلا قدم تھا۔ اب چلی کے منقسم سیاسی کیمپ کو اتحاد و تعاون کے ساتھ نئے دستور کو تحریر کرنے کی ذمہ داری اٹھانی ہے تا کہ اس تبدیلی کو متعارف کرایا جا سکے، جس کی طلب عوامی تحریک میں دیکھی گئی تھی۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ دستوری ریفرنڈم ملک کے تمام مسائل کا حل نہیں ہے اور سارے چلی میں واضح تبدیلی ایک رات میں ممکن نہیں۔

عوام کو مرحلہ وار ہی کامیابی حاصل ہو گی اور عام لوگوں کو تحمل کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ چلی کی پارلیمنٹ کے اراکین کو بھی عوامی امنگوں پر پورا اترنا ہو گا اور اس کے لیے انہیں اپنی سیاسی بصیرت پر عمل کرنا ہو گا تا کہ اتوار پچیس اکتوبر کے تاریخی سنگ میل سے آگے کی جانب یعنی منزل کا سفر شروع ہو سکے۔

ع ح / ا ا (ژوہان رامیریز)

کرونا وائرس کی دوسری لہر سے متعلق تازہ ترین معلومات