ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں سینیٹر رزینہ عالم خان کی تازہ تصنیف ’سنو پیارے بیٹے‘کی تقریبِ رونمائی

جمعرات اکتوبر 13:11

ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں سینیٹر رزینہ عالم خان کی تازہ تصنیف ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 اکتوبر2020ء) ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں سینیٹر رزینہ عالم خان کی تازہ تصنیف ’سنو پیارے بیٹے‘کی تقریبِ رونمائی منعقد ہوئی ۔مصنفہ نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور کتاب کے محرکات کا احاطہ کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے معاشرتی ناہمواریوں کے سدِ باب کے لئے یہ اصلاحی کتاب لکھی ہے جو بیک وقت نوجوان نسل، اساتذہ اور والدین کو مخاطب کر کے اُن کی معاشرتی ، معاشی اور مذہبی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتی ہے۔

رزینہ عالم خان نے نئی نسل کی کردار سازی کے حوالے سے کتاب لکھ کر ایک بہت بڑی معاشرتی ذمہ داری پوری کی ہے۔انہوں نے اپنے زندگی بھر کے تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے انتہائی سادہ اور سلیس انداز میں ماں کی مامتا کو اپنا مرکز بنایا اور دلنشیں انداز میں پوری تحقیق کے ساتھ نوجوان نسل کو زندگی کے مختلف ادوار یعنی بچپن سے لے کر جوانی اور اس کے بعد عملی زندگی اور بڑھاپے تک کے لئے بہترین لائحہ عمل ترتیب دینے کی ترغیب دی ہے،ان خیالات کا اظہار مقررین نے ایوانِ قائد فاطمہ جناح پارک میں سینیٹر رزینہ عالم خان کی تازہ تصنیف ’سنو پیارے بیٹے‘کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

تقریب کی صدارت ممتاز دانشور کالم نگار اور ادیبہ محترمہ کشور ناہید نے صدارت کی جبکہ مہمانانِ خصوصی اکادمی ادیبات کے چیئرمین ڈاکٹر یوسف خشک اور اسلامی یورنیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر معصوم یاسین زئی تھے۔ ان کے علاوہ نظریہ پاکستان کونسل کے چیئرمین میاں محمد جاوید اور نوجوان طالبعلم حسیب شیخ نے کتاب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

اپنے صدارتی خطاب میں کشور ناہید نے کہا کہ مصنفہ نے بطور ایک ماہرِ معاشیات ، ماہر نفسیات اور ماہر سماجیات کے طور پر کتاب میں نوجوانوں کے لئے سوال بھی اُٹھائے ہیں اور اُن کے جوابات بھی دیئے ہیں جس سے کتاب عملی شکل میں ایک رہنما کتاب بن گئی ہے۔ہم نے اپنے بچوں کے ماضی کے بارے میں بتانا چھوڑ کر انہیں اپنی شناخت سے محروم کر دیا ہے جس کے ازالے کے لئے اس کتاب میں کہانی کا سا انداز اختیار کرتے ہوئے نوجوانوں کے ساتھ گفتگو کی گئی ہے۔

یہ کتاب نوجوان نسل کو ہی نہیں آج کے بزرگوں کو بھی یہ یاد دلانا چاہتی ہے کہ معاشرے میں تربیت کا جو فقدان ہے اُسے اب دور ہو جانا چاہیے جس کی ذمہ داری اُن پر عائد ہوتی ہے۔ یوسف خشک نے کہا کہ مصنفہ نے کتاب کے مقصد کو سامنے رکھ کر ایک انتہائی مفید دستاویز تیار کی ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر بہتری کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔وہ آج کے نوجوان کو تنقید اور تنقیس کانشانہ بنانے کی بجائے انہیں حوصلہ دے کر آگے بڑھنے پر راغب کرتی ہیں جو کہ ایک ضروری معاشرتی عمل ہے۔

معصوم یاسین زئی نے کہا کہ محترمہ نے اپنی باتوں کو پر مغز بنانے کے لئے آیاتِ قرآنی اور احادیث سرکارِ رسالت مآب کے پیغامات کو مشعل راہ بنایا ہے اور یہ ایک ایسی کتاب ہے جسے یونیورسٹی کی سطح پر طلبا و طالبات کے لئے لازمی قرار دینا چاہیے ۔میاں محمد جاوید نے کہا کہ ان کی کتاب خاندانی نظام کے استحکام کی تبلیغ کرتی ہے جو ایک بہت بڑی معاشرتی ضرورت ہے۔ کیونکہ اس سے انسانوں سے رویے کی تعلیم مل رہی ہے۔ حسیب شیخ نے کہا کہ یہ کتاب ایک خشک نصیحت والی تحریر نہیں بلکہ ایک ماں کی محبت سے لبریز دل میں اترتے ہوئے پیغام کی علمبردار ہے۔