قوال عزیز میاں کی 20ویں ،کلاسیکل گلوکارہ روشن آرا بیگم کی 38ویں برسی 6دسمبر کو منائی جائے گی

جمعرات دسمبر 11:58

قوال عزیز میاں کی 20ویں ،کلاسیکل گلوکارہ روشن آرا بیگم کی 38ویں برسی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 دسمبر2020ء) نامور قوال عزیز میاں کی 20اور کلاسیکل گلوکارہ روشن آراء بیگم کی 38ویں برسی 6دسمبر کو منائی جائے گی ۔عزیز میاں قوال 17اپریل 1942ء کو دہلی میں ہوئے۔ان کا اصل نام عبدالعزیز تھا اور میاں ان کا تکیہ کلام تھا، جو وہ اکثر اپنی قوالیوں میں بھی استعمال کرتے تھے، جو بعد میں ان کے نام کا حصہ بن گیا۔

انہوں نی1947ء میں پاکستان ہجرت کرکے لاہور میں سکونت اختیار کی۔استاد عبدالوحید سے فنِ قوالی سیکھنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے عربی، فارسی ادب اور اردو ادب میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔1966ء میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کے سامنے یادگار پرفارمنس پر انعام و اکرام اور گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔عزیز میاں قوال اپنی بیشتر قوالیاں خود لکھتے تھے، اس کے علاوہ انہوں نے علامہ محمد اقبال، صادق اور قتیل شفائی کا کلام بھی بارہا گایا۔

(جاری ہے)

عزیز میاں کا شمار قدرے روایتی قوالوں میں ہوتا تھا، ان کی آواز بارعب اور طاقتور تھی۔لیکن ان کی کامیابی کا راز صرف ان کی آواز نہیں تھی، عزیز میاں نہ صرف ایک عظیم قوال تھے بلکہ ایک عظیم فلسفی بھی تھے۔انہیں اپنے ابتدائی دور میں فوجی قوال کا لقب ملا کیونکہ ان کی شروع کی سٹیج کی بیشتر قوالیاں فوجی بیرکوں میں فوجی جوانوں کے لیے تھیں۔مختلف قسم کے معمولی الزامات پر انہیں کئی دفعہ گرفتار کیا گیا لیکن بعد میں بری کر دیا گیا۔

عزیز میاں کو شاعری پڑھنے میں کچھ ایسی مہارت حاصل تھی جو سامعین پر گہرا اثر چھوڑ جاتی تھی۔ان کی بیشتر قوالیاں دینی رنگ لیے ہوئے تھیں گو کہ انہوں نے رومانی رنگ میں بھی کامیابی حاصل کی تھی۔عزیز میاں کی مقبول ترین قوالیوں میں شرابی، تیری صورت اور اللہ ہی جانے کون بشر ہے شامل ہیں۔عزیز میاں کا انتقال 6دسمبر 2000ء کو ایران کے دارلحکومت تہران میں یرقان کی وجہ سے ہوا۔

انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہ کی برسی کے موقع پر ایرانی حکومت نے قوالی کیلئے مدعو کیا تھا تاہم آپ کی تدفین آبائی قبرستان ملتان میں کی گئی۔ملکہ موسیقی کے نام سے جانی جانے والی پاکستان کی معروف کلاسیکل گلوکارہ روشن آرا بیگم کی 38ویں برسی بھی 6دسمبر کو منائی جائے گی ۔گلوکارہ روشن آرا بیگم 1917ء میں کلکتہ میں استاد عبدالحق خان کے گھر پیدا ہوئیں اور تقسیم ہند کے بعد اپنی الگ شناخت بنائی ۔انہوں نے پہلی نظر ، جگنو، قسمت ، روپ متی باز بہادر، نیلا پربت سمیت سینکڑوں فلموں میں پلے بیک سنگر کے طور پر انتہائی خوبصورت نغمات ریکارڈ کروائے جنہوں نے ان فلموں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ روشن آرا بیگم 6دسمبر 1982ے کواس جہان فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔