سانحہ مچھ پروزیراعلیٰ بلوچستان کا ایکشن، اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا

ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او پولیس کو عہدے سے ہٹا نے کا نوٹیفکیشن جاری،صوبے میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال کی ہدایت

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات جنوری 20:43

سانحہ مچھ پروزیراعلیٰ بلوچستان کا ایکشن، اعلیٰ افسران کو عہدوں سے ..
کوئٹہ (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔07 جنوری 2021ء) وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سانحہ مچھ پر ایکشن لے لیا ہے،ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او پولیس کو عہدے سے ہٹا دیا ہے، وزیراعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ صوبے میں سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے جائیں۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سانحہ مچھ پرایکشن لیتے ہوئے اعلیٰ افسران کو عہدوں کو ہٹا دیا ہے، وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ڈپٹی کمشنرکچھی کو عہدے سے ہٹانے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، ڈی سی کو فوری ایس اینڈ جی اے ڈی رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے۔

اسی طرح سکیورٹی انتظامات میں ناکامی پر ڈی پی او پولیس کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب مچھ بلوچستان میں دہشت گردی میں ہزارہ برادری کے افراد کے قتل کے خلاف شیعہ تنظیموں کا احتجاج جاری ہے، نیشنل ہائی وے حیدرآباد بائی پاس، حیدرآباد میرپورخاص روڈ، حیدرآباد ٹنڈو محمد خان روڈ اور دیگر اہم شاہراں پر دھرنوں کی وجہ سے ٹریفک بری طرح معطل ہونے سے مسافر گاڑیوں اور مال بردار ٹرالروں ٹرکوں کی رات سے قطاریں لگی ہوئی ہیں۔

(جاری ہے)

شیعہ تنظیموں نے گزشتہ نصف شب کے قریب مختلف علاقوں سے جلوس نکالے اور حیدرآباد کو کراچی، ہالا، میرپورخاص، ِٹنڈو محمد خان سمیت دیگر شاہراں دھرنا دیا ٹائر جلائے اور ٹریفک مکمل طور پر بند کر دیا، گاڑیوں کی قطاروں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے، مریضوں اور مسافروں کو خصوصا سخت پریشانی کا سامنا ہے، پولیس کی بھاری نفری بھی دھرنوں کے مقام پر تعینات کی گئی ہے، دھرنے میں شریک مختلف شیعہ تنظیموں کے رہنمائوں کا مطالبہ ہے کہ مچھ کے اندوہناک واقعہ میں ملوث دہشت گردوں کو گرفتار کیا جائے اور وزیراعظم خود کوئٹہ جا کر میتوں کے ساتھ دھرنے میں شریک ہوں، ان کے لواحقین کو تحفظ کی یقین دھانی کرائیں۔

حیدرآباد بائی پاس اور نیشنل ہائی وے کو رات سے دھرنا دے کر اور ٹائر نذرآتش کر کے بلاک کر دیا گیا تھا اور سڑک پر اسٹیج بنایا گیا تھا۔ان حالات میں رات گئے ڈی ایس پی لطیف آباد اور ایس ایچ او قاسم آباد دھرنے میں پہنچے اور مولانا کرم علی حیدری سے بات کر کے بلاک سڑک گاڑیوں کے لئے کھلوا دی، جبکہ شہر کو ملانے والی شاہراں پر احتجاج جاری ہے۔