ن لیگی رہنماوں کی عدالتوں میں پیشی ، اراکین اسمبلی غیرحاضر ہونے لگے

پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے نوٹس لے لیا ، آئندہ پیشیوں پر ارکان اسمبلیوں کی حاضری کو مانیٹر کیاجائے گا ، لیگی خواتین ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ کم از کم 4 خواتین ہمراہ لانے کی ہدایت کردی گی ، ذرائع

Sajid Ali ساجد علی بدھ جنوری 21:53

ن لیگی رہنماوں کی عدالتوں میں پیشی ، اراکین اسمبلی غیرحاضر ہونے لگے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2021ء) مسلم لیگ ن کے رہنماوں کی عدالتوں میں پیشی کے موقع پراراکین اسمبلی غیرحاضر ہونے لگے ، ن لیگی قیادت نے نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق نیب میں زیر حراست مسلم لیگ ن کے رہنماوں کی مختلف عدالتوں میں پیشی کے موقع پر ان کی حوصلہ افزائی کرنے والے اراکین اسمبلی غائب رہنے لگے جس کامسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت نے سختی سے نوٹس لے لیا ، لاہور کے اراکین اسمبلی کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی گئی ، اس ضمن میں اعلیٰ قیادت نے مخصوص نشستوں پر منتخب لیگی خواتین کوخاص طور پر حاضری یقینی بنانےکی ہدایت کی ہے۔

ذرائع کے مطابق اعلیٰ قیادت کی طرف سے پیغام بھجوایا گیا ہے کہ بغیر وجہ کے کوئی رکن اسمبلی آئندہ پیشی سے غیرحاضر نہ رہے اس مقصد کیلئے لیگی خواتین ارکان اسمبلی کو اپنے ساتھ کم از کم 4 خواتین ہمراہ لانے کی ہدایت جاری کردی گئی ، آئندہ پیشیوں پر ارکان اسمبلیوں کی حاضری کو مانیٹر کیاجائے گا۔

(جاری ہے)

 دوسری طرف اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیموکرٹک موومنٹ کی طرف سے جاری حکومت مخالف تحریک میں پی ڈی ایم کی 3 بڑی جماعتیں تاحال حکمت عملی بنانے میں ناکام ہیں۔

اس حوالے سے تفصیلات میں میڈیا ذرائع ک طرف سے بتایا گیا ہے کہ 3 بڑی جماعتیں تاحال کارکنوں کو جمع کرانے کی کوئی حکمت عملی نہیں بنا سکیں، موجودہ حالات میں پی ڈی ایم الیکشن کمیشن کے باہر کوئی بڑا پاور شو نہیں کر سکے گی، بڑی تعداد میں کارکن نہ ہونے پرحکومت کو تنقید کا موقع ملےگا، اپوزیش کے احتجاج کے لئے کارکنوں کو جمع کرنے کے طریقہ کار پر تاحال مشاورت کا عمل جاری ہے۔

  تاہم وفاقی حکومت نے پی ڈی ایم کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت دینے کا فیصلہ کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی ، جس میں حکومت نے فیصہ کیا کہ پی ڈی ایم کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت دے دی جائے ، اس موقع پر وزیر اعظم نے وزیر داخلہ کو ہدایت کی کہ پی ڈی ایم کو الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کی اجازت دی جائے ، کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالی جائے ، کسی کو شوق ہے تو وہ پورا کرلے لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔