ایک پاکستانی سیاستدان کی جانب سے سعودی عرب سے برطانیہ 1 ارب ڈالرز منتقل کیے جانے کا انکشاف

برطانوی کمپنی کے عہدیدار کے مطابق ماضی میں وزیراعظم اور دیگر وزراء پیسہ چوری کرکے برطانیہ منتقل کررہے تھے، جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرے گا تو نچلی سطح تک چوری کا رحجان بڑھے گا اور کرپشن عام ہوگی: وزیراعظم عمران خان

بدھ جنوری 22:48

ایک پاکستانی سیاستدان کی جانب سے سعودی عرب سے برطانیہ 1 ارب ڈالرز منتقل ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جنوری2021ء) ایک پاکستانی سیاستدان کی جانب سے سعودی عرب سے برطانیہ 1 ارب ڈالرز منتقل کیے جانے کا انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ براڈ شیٹ اسکینڈل میں برطانوی کمپنی کا عہدیدار اپنے انٹرویو میں واضح کررہا ہے کہ کس طرح وزیراعظم اور دیگر وزرا پیسہ چور کرکے برطانیہ منتقل کررہے تھے۔

ایک پاکستانی سیاستدان نے سعودی عرب سے برطانیہ ایک ارب ڈالر منتقل کیا،جب ملک کا وزیر اعظم چوری کرے گا تو نچلی سطح تک چوری کا رحجان بڑھے گا اور کرپشن عام ہوگی۔ دنیا بھر میں 20 سال سے پیپر لس نظام فعال ہے جس کی وجہ سے کرپشن اور بدعنوانی کا گراف غیرمعمولی طور پر کم ہوگیا کیونکہ آٹومیشن طریقے سے شفافیت کا پہلوؤں نمایاں رہتا ہے۔

(جاری ہے)

جبکہ پاکستان میں تبدیلی نہ آنے کی بڑی وجہ اسٹیٹس کو ہے جسے آپ مافیا بھی کہہ سکتے ہیں۔

جو لوگ پرانے نظام سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں وہ تبدیلی نہیں آنے دیتے۔وزیر اعظم عمران خان نے شوکت خانم ہسپتال کی مثال پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے کرپشن اور سفارش کو ختم کرنے کے لیے پورے ہسپتال کے انتظامی امور کو پیپر لیس کردیا جس کے بعد اب ادھر کوئی کرپشن نہیں ہے۔ مغربی ممالک کے وزیر اعظم اور صدور کے رہن سہن دیکھ لیں اور پاکستان جیسے مقروض ملک کے سابق حکمران کا رہن سہن دیکھ لیں۔

پاکستان سے جانے والے سابق صدر اور وزیر اعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاتے تھے تو انتہائی مہنگے ہوٹلز میں رہتے تھے۔ وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سب سے بڑی تبدیلی اس وقت آئے گی جب ایف بی آر مکمل طور پر ڈیجیٹلائز ہوجائے گا۔ میں نے جولائی تک ٹیم کو ہدف دیا ہے کہ ایف بی آر کو مکمل ڈیجیٹلائز کردیا جائے۔ امید ہے ایف بی آر مکمل ڈیجیٹلائز ہونے سے ٹیکس وصولی کا گراف بہتر ہوگا۔