پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی اور جبری شادی کی شکایات انتہائی کم ہیں ،حافظ محمد طاہر محمود اشرفی

گزشتہ تین ماہ میں توہین ناموس رسالتؐ کے قانون کے غلط استعمال کی ایک شکایت نہیں آئی،پاکستان دشمن عناصر پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ، اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے،معاون خصوصی وزیراعظم

بدھ جنوری 19:30

پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی اور جبری شادی کی شکایات انتہائی کم ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 20 جنوری2021ء) چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ پاکستان میں جبری مذہب کی تبدیلی اور جبری شادی کی شکایات انتہائی کم ہیں ،گزشتہ تین ماہ میں توہین ناموس رسالتؐ کے قانون کے غلط استعمال کی ایک شکایت نہیں آئی،پاکستان دشمن عناصر پاکستان کو بدنام کرنے کیلئے پراپیگنڈہ کر رہے ہیں ، عالمی میڈیا میںفیصل آباد کی مسیحی بچی بار ے شائع خبر بارے میں پولیس ، مقامی اداروں کے پاس کوئی شکایت درج نہیں ہوئی جس بچی کی شکایت آئی اس پر مکمل قانونی کارروائی کی گئی ، مزید تحقیقات کر رہے ہیں، اسلامی اور عرب ممالک کے ساتھ تمام شعبوں میں تعلقات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پاکستان علماء کونسل و نمائندہ خصوصی وزیر اعظم برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطیٰ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ریاست پاکستان کیلئے ہر پاکستانی بیٹی قوم کی بیٹی ہے خواہ اس کا تعلق کسی بھی مذہب و مسلک سے ہو اور اس کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی اقلیتوں کے حوالے سے بعض واقعات ہو جاتے ہیں لیکن ان واقعات کو پاکستانی قوم یا حکومت یا دین اسلام کی طرف منسوب کرنا قطعاً درست نہ ہے۔

بطورنمائندہ خصوصی وزیر اعظم تمام اقلیتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں ، ان کی شکایات کو میرٹ اور عدل وا نصاف کے مطابق حل کررہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ عالمی ذرائع ابلاغ میں فیصل آباد کی مسیحی بچی کے حوالہ سے خبروں کی تحقیقات کر رہے ہیں، جس مسیحی بچی کی شکایت موصول ہوئی تھی اس پر قانون کے مطابق کاروائی ہوئی ہے۔ فیصل آباد پولیس کے پاس اس طرح کی کوئی شکایت نہیں آئی ہے اگر کسی نے زیادتی کی ہے تو قانون کے مطابق اس کے خلاف کاروائی ہو گی۔

انہوں نے ان خبروں کی بھی سختی کے ساتھ تردید کی کہ ہر سال پاکستان میں سینکڑوں بچیوں کو جبری طور پر مسلمان بنا کر ان سے شادیاں کر لی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جبری شادیوں کے چند ایک واقعات ہوئے ہیں لیکن حکومت پاکستان کے ایکشن کے بعد اب یہ سلسلہ رک گیا ہے اور اس سلسلہ میں قانون سازی بھی ہو رہی ہے۔ گذشتہ تین ماہ کے دوران اس طرح کے واقعات کی شکایات نہایت کم ہیں۔

اسی طرح توہین ناموس رسالتؐ کے قانون کے غلط استعمال کی ایک شکایت بھی تین ماہ سے نہیں آئی ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انٹر فیتھ ہارمنی کونسلز کے کنونیئرمقرر کیے جا رہے ہیں اور ان کونسلز کے قیام کے بعد بین المذاہب و بین المسالک ہم آہنگی میں مزید بہتری آئیگی۔عرب اسلامی ممالک سے تعلقات بارے سوال کے جواب میں حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ عرب اسلامی ممالک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات بہت بہتر ہیں۔

آئندہ ایام میں کویت ، سعودی عرب ، عراق ، بحرین، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک سے تمام شعبوں میں تعاون بڑھے گا۔اسرائیل کے حوالہ سے حکومت پاکستان کا موقف واضح ہے لہٰذا اس پر بحث کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ مدارس عربیہ ملک میں کسی قسم کے انتشار کی تحریک کا حصہ نہیں بن سکتے اور نہ بنیں گے۔