ضلع بدین میں نہری پانی کابحران شدت اختیارکرگیا ، درجنوں نہروں کی ٹیل میں ریت اڑنے لگی ، کاشتکاروں کاپنگریوپریس کلب تک پیدل مارچ

منگل اپریل 15:30

پنگریو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اپریل2021ء) ضلع بدین میں نہری پانی کابحران شدت اختیارکرگیا ہے اور درجنوں نہروں کی ٹیل میں ریت اڑتی دکھائی دے رہی ہے،کاشتکاروں نے پانی کی قلت مصنوعی قرار دیتے ہوئے ڈائریکٹرایریاواٹربورڈلیفٹ بینک کینال میرغلام علی ٹالپرکے خلاف شادی اسمال واہ کی ٹیل سے پریس کلب پنگریوتک پیدل احتجاجی مارچ کیا اکاشتکاررہنماوں بشیراحمدکھوسو۔

میاں بشیراحمد۔اصغرعلی آرائیں۔مریدغوث اوردیگر نے میڈیا کوبتایاکہ اکرم واہ کاپانی دیگرکینالوں میں فراہم کیاجارہاہے شادی سب ڈویزن سمیت ضلع بدین بھرمیں پھٹی۔مرچ۔گنے۔سبزیوں کی بوائی متاثرہورہی ہیسیڈاڈائریکٹرمیرغلام علی ٹالپراکرم واہ کے کمانڈایریاکوصحرامیں تبدیل کرناچاہتے ہیں ڈائریکٹرایریاواٹربورڈ نے سالانہ بہنے والی کینال اکرم واہ کے حصے کاپانی ششماہی نہروں کوفراہم کردیا ہے کیونکہ ان ششماہی نہروں پرڈائریکٹرکی اپنی اوردیگربااثرشخصیات کی زرعی زمینیں واقع ہیں کاشتکاروں نے کہا کہ ایک طرف توحکومت سندھ نے سالانہ بہنے والی اکرم واہ کے کمانڈ ایریا میں چاولوں کی کاشت پرپابندی عائدکردی ہے تودوسری طرف اس کینال کاپانی بندکرکے ہزاروں کاشتکاروں کودیگرفصلوں کی بوائی سے بھی محروم کردیا ہے انہوں نے کہاکہ اکرم ڈویزن کی سب ڈویزنوں میں پینے کے پانی کی بھی قلت پیداہوگئی ہے اورانسانی آبادی اورمویشیوں کے لیے پینے کے پانی کاحصول مشکل بنادیاگیاہے انہوں نے کہاکہ اکرم ڈویزن کی سب ڈویزنوں شادی۔

(جاری ہے)

قاضیہ۔کڈھن میں پانی کی طویل وارہ بندی کاجوشیڈول جاری کیاگیاہے وہ کاشتکاروں کے معاشی قتل کے برابر ہے اورکاشتکار اس طویل وارہ بندی کوتسلیم نہیں کرتے کاشتکاروں نے اعلان کیاکہ اگراکرم واہ میں پانی کی مصنوعی قلت ختم نہ کی گئی تواحتجاجی تحریک ضلع بدین بھرکے شہروں تک بڑھادی جائے گی کاشتکاروں نے اس موقع پرنعرے بازی بھی کی جبکہ انہوں نے ہاتھوں میں پوسٹربھی اٹھارکھے تھے۔

متعلقہ عنوان :