انسانی حقوق کمیشن کا وزیراعظم کے بیان کا نوٹس، معافی کا مطالبہ کر دیا

اس تاثرکی بھی مذمت کرتےہیں کہ پردےسےجنسی زیادتی رک جائیگی، وزیراعظم کا بیان مجرموں کےبجائےجنسی زیادتی کے متاثرین کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے،انسانی حقوق کمیشن

Danish Ahmad Ansari دانش احمد انصاری منگل اپریل 22:32

انسانی حقوق کمیشن کا وزیراعظم کے بیان کا نوٹس، معافی کا مطالبہ کر دیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ، تازہ ترین اخبار، 6اپریل 2021) انسانی حقوق کی کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کے بیان کا نوٹس لے لیا۔ تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کی کمیشن نے وزیراعظم عمران خان کا پردہ کے فروغ اور شرم و حیا کے اسلامی اصولوں کے نفاذ سے متعلق بیان کی مزمت کی ہے۔ ذرائع کے مطابق انسانی حقوق کی کمیشن نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے جنسی زیادتی کو فحاشی سے جوڑنے کی مذمت کرتے ہیں۔

کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم کےاس تاثرکی بھی مذمت کرتےہیں کہ پردےسےجنسی زیادتی رک جائیگی۔کمیشن نے اعلامیے میں کہا کہ وزیراعظم کا بیان مجرموں کےبجائےجنسی زیادتی کے متاثرین کو موردِ الزام ٹھہراتا ہے۔جنسی زیادتی کے متاثرین کو موردِ الزام ٹھہرانا اُن کی آوازکو دبانا ہےانسانی حقوق کی کمیشن نے کہا کہ بیان سے وزیر اعظم نے جنسی زیادتی کا دفاع کرنے والوں کو شہہ دی۔

(جاری ہے)

ایک عوامی لیڈر کا یہ رویہ ناقابلِ قبول ہےوزیر اعظم کےجنسی زیادتی سےمتعلق بیان پرحقوقِ نسواں سمیت وکلا تنظیموں نے بھی مذمتی ریمارکس دئیے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ فحاشی کے خاتمے کیلئے طیب اردوان کو کہہ کر ترکی کے ڈرامے پاکستان میں لے کر آیا ہوں۔ وہ اتوار کو براہ راست فون کالز کے ذریعے عوام کے سوالات کے جواب دے رہے تھے۔

حیدرآباد سے ایک شہری کے سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ بچوں اور خواتین کے خلاف جرائم تیزی سے پھیل رہے ہیں اور جتنے کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں صورتحال اس سے کہیں زیادہ سنگین ہے، ہم نے اس حوالہ سے سخت قانون سازی کی ہے لیکن جس طرح کرپشن صرف قانون بنانے سے ختم نہیں ہو گی اسی طرح جنسی جرائم کے خلاف بھی پورے معاشرے کو مل کر لڑنا ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ جب معاشرے میں فحاشی بڑھ جائے تو اس کا اثر سامنے آتا ہے، اسلام نے اسی لئے پردے کا تصور دیا ہے، فحاشی بڑھنے سے خاندانی نظام متاثر ہوا ہے، یورپ میں طلاق کی شرح 70 فیصد ہو چکی ہے، بالی وڈ نے ہالی وڈ کی پیروی کی جس کی وجہ سے دہلی کو ’’ریپ کیپٹل‘‘ کہا جاتا ہے۔ اسلام میں پردے کا تصور خاندانی نظام کے تحفظ کیلئے ہے، موبائل فون کے ذریعے بچوں کی ہر طرح کے مواد تک رسائی ہے، ہمیں اپنے معاشرے کو مغربی اور بھارتی ڈراموں اور فلموں کے برے اثرات سے بچانا ہے، میں طیب اردوان کو کہہ کر ترکی کے ڈرامے پاکستان میں لے کر آیا ہوں، ہمارے فلمساز اور ڈرامہ نگار کہتے تھے کہ وہ جو کچھ دکھا رہے ہیں لوگ وہی دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اب ترکی کے جو ڈرامے دکھائے جا رہے ہیں وہ بہت مقبول ہیں۔