عوام اور میڈیا کی تنقید کے باوجود پنجاب پولیس اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی

ساہیوال میں 15 پر کال کر کے مدد کیلئے بلانے والے شہری کو پولیس اہلکار نے تحفظ فراہم کرنے کی بجائے تھپڑ جڑ دیا

muhammad ali محمد علی بدھ اپریل 00:51

عوام اور میڈیا کی تنقید کے باوجود پنجاب پولیس اپنی حرکتوں سے باز نہ ..
ساہیوال (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 اپریل2021ء) عوام اور میڈیا کی تنقید کے باوجود پنجاب پولیس اپنی حرکتوں سے باز نہ آئی، ساہیوال میں 15 پر کال کر کے مدد کیلئے بلانے والے شہری کو پولیس اہلکار نے تحفظ فراہم کرنے کی بجائے تھپڑ جڑ دیا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب پولیس کے ایک اہلکار کی جانب سے شہری کی تذلیل کیے جانے کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے۔

ساہیوال کے علاقے ڈیرہ رحیم میں پنجاب پولیس کے اہلکار نے شہری کو صرف اس لیے تھپڑ جڑ دیا کیونکہ اس نے مدد کیلئے ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے پولیس کو طلب کیا۔

بتایا گیا ہے کہ ایک طاقتور شخص کی جانب سے ساہیوال کے نواحی گاؤں 110 نو ایل کے رہائشی محمد اشرف کی زمین پر لگے درخت غیر قانونی طور پر کاٹے جا رہے تھے۔

(جاری ہے)

اس طاقتور شخص نے اس زمین پر غیر قانونی قبضہ بھی کر رکھا ہے، تاہم محمد اشرف نے اس تنازعے پر عدالت سے اسٹے آرڈر حاصل کر لیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود زیر قبضہ زمین سے غیر قانونی طور پر درختوں کی کٹائی شروع کر دی گئی۔ اس صورت میں محمد اشرف نے ہیلپ لائن 15 پر کال کر کے پولیس کو مدد کیلئے طلب کیا۔ تاہم شکایت موصول ہونے کے بعد علاقہ پولیس کے اے ایس آئی محمد عثمان نے موقع پر پہنچ کر محمد اشرف کو تحفظ فراہم کرنے کی بجائے ناصرف اسے تھپڑ رسید کیے بلکہ سرعام شہری کی تذلیل بھی کی۔

واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد عوام کی جانب سے سوشل میڈیا پر غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آئے روز پنجاب پولیس کے ایسے واقعات سامنے آتے ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے باقاعدہ ایکشن بھی لیتے ہیں، تاہم اس کے باوجود پنجاب پولیس کے اہلکار اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ رہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز بھی قصور میں پنجاب پولیس کے اہلکار کی جانب سے ایک گھر میں گھس کر خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔



بتایا گیا کہ اس واقعے میں قصور پولیس کا سب انسپکٹر جمیل خان ملوث ہے ، سب انسپکٹر جمیل خان نے خاتون کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا اور اسے لاتیں اور تھپڑ بھی مارے۔ اس حوالے سے ترجمان پنجاب پولیس کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے گئے ایک بیان میں اردو پوائنٹ کی خبر شیئر کرتے ہوئے بتایا گیا کہ آئی جی پنجاب انعام غنی کے احکامات کے مطابق خواتین کو تشدد کا نشانہ بنانے والے اہلکار کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے مقدمہ درج کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے جب کہ معطلی کے بعد اس اہلکار کے خلاف محکمانہ کاروائی کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔