خسرو بختیار کی بطور وزیر صنعت و پیداوار تعیناتی مفادات کا ٹکراؤ ہے، رضا ربانی

جون کا بجٹ، آئی ایم ایف، پی ٹی آئی کا چوتھے وزیر خزانہ کے ساتھ تیسرا بجٹ ہوگا، سابق چیئر مین سینٹ

اتوار اپریل 17:45

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 اپریل2021ء) سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے خسرو بختیار کی بطور وزیر صنعت و پیداوار تعیناتی کو مفادات کا ٹکراؤ قرار دیدیا۔اپنے بیان میں رضا ربانی نے کہا کہ خسرو بختیار اور ان کے خاندان کی شوگر ملز میں دلچسپی کا ذکر چینی کمیشن رپورٹ میں کیا گیا۔

(جاری ہے)

پی پی رہنما نے کہا کہ شوگر کمیشن رپورٹ کے بعد خسرو بختیار کو وزیر قومی فوڈ سیکیورٹی سے ہٹایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ جون کا بجٹ، آئی ایم ایف، پی ٹی آئی کا چوتھے وزیر خزانہ کے ساتھ تیسرا بجٹ ہوگا۔رضا ربانی نے کہا کہ ریکارڈ ظاہر کرتے ہیں کہ بجٹ سے عین پہلے نیا وزیر خزانہ لایا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ شاید اس کی ضرورت بھی نہیں کیونکہ انہیں آئی ایم ایف بجٹ پر صرف دستخط کرنا ہوتا ہے۔