سوراب ،گدر زراعت شعبہ تباہی کے دہانے پرپہنچ گیا

ہفتہ جولائی 22:44

سوراب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جولائی2021ء) گدر زراعت شعبہ تباہی کے دہانے پر،سینکڑوں ملازمین کے باوجود بھی لوگوں کو گندم سمیت دیگر ضرورت اشیا میسر نہیں تفصیلات کے مطابق پہلے دور میں بلوچستان میں ٹاپ لیول کے زرعی فارم اب تباہی کے دہانے پر بیس سال پہلے ضلع سوراب کے گدر کے زرعی کامیاب زرعی فارم تھے جو کہ رقبے کے لحاظ سے صوبہ بلوچستان کا سب سے بڑا زرعی فارم مانا جاتا ہے جس میں پانچ سو سے زائد ملازمین کا وابستگی ہیں، جوکہ آج سے پندرہ سال پہلے سالانہ کے حساب سے گدر زرعی فارم صوبہ بلوچستان کو گندم سمیت دیگر اشیا فراہم کرتا تھا اس دور وقت میں سرکار کی جانب سے گدر میں ایگریکلچر یونیورسٹی بنانے کی تیاری بھی تھی لیکن مسلسل خوشک سالی کے باعث دن بہ دن پانی کی سطح نیچے گرتے گئے ہیں اور آخر کار آج وہی زرعی فارم صرف زمینی لیول پر بنجر کی شکل اختیار کر چکی ہیں اب اس زرعی فام سے سالانہ کے حساب سے بہ مشکل صرف پچاس تک کہ گندم کی بوریاں برآمد کی جاتی ہیں، سرسبز شاداب زرعی فارم کے چاروں اطراف میں مختلف اقسام کے باغات کو پانی میسر نہ ہونے کی وجہ سے کاٹ کر ختم کردی گئی ہیں،زرعی فارم کے ٹریکٹرز بھی خراب ہو کر کئی سالوں سے گوداموں میں بند پڑی ہوئی ہیں، لیکن آج علاقہ گدر میں زیر زمین پانی کی سطح مائرین کے مطابق ٹھیک ہیں اگر دوبارہ زرعی فارم کے لیے نئے بورنگز گایا جائے تو پھر سے زرعی فارم آباد ہوسکتے ہے،واضح رہے کہ زرعی فارم میں کچھ وسائلز کی کمی بھی ہیں۔

متعلقہ عنوان :