ن لیگ مشکل میں ہے، نواز شریف کو وطن واپس آنے کا مشورہ

ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونا نواز شریف اور ن لیگ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے،حکومت کو سیاست کرنے کا بھرپور موقع مل گیا،نواشریف کو جان کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس آکر مہم کی قیادت کرنی چاہئیے۔سینئر تجزیہ کاروں کی رائے

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان ہفتہ 7 اگست 2021 11:47

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 07 اگست 2021ء) : سینئر تجزیہ کاروں کی جانب سے سابق وزیراعظم نواز شریف کو وطن واپس آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔سینئر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو وطن واپس آنا چاہئیے کیونکہ ن لیگ مشکل میں ہے۔معروف صحافی ارشاد بھٹی نے کہا کہ برطانوی ویزا میں توسیع کی درخواست مسترد ہونا نواز شریف اور ن لیگ کے لیے شرمندگی کا باعث ہے،نواز شریف بقول مریم نواز امام خمینی بن چکے ہیں تو اب انہیں جان کی پرواہ کیے بغیر وطن واپس آکر مہم کی قیادت کرنی چاہئیے۔

حکومت کے لیے یہ سیاست کرنے کا بھرپور موقع ہے لیکن نواز شریف اپنی مرضی سے ہی واپس آئیں گے۔نواز شریف اگر مزاحمتی ، انقلابی اور سیاسی ہیں تو ویسا کردار بھی ادا کرنا چاہئیے۔بینظیر بھٹو کہتی تھیں مجھے عدالت سے ریلیف نہیں ملتا نواز شریف کو مل جاتا ہے۔

(جاری ہے)

نواز شریف کو عدالتوں سے ’کس‘ معاملہ میں ریلیف نہیں ملا ہے۔قبل ازیں رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہ ن لیگ کے سینئر پارلیمنینٹرین نے نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ آزاد کشمیر اور سیالکوٹ میں شکست کے بعد بھی پالیسی نہ بدلی تو پارٹی بکھر جائے گی۔

سینئر پارلیمنٹیرینز نے نواز شریف کو کہا ہے کہ آپ کے پاس 4 ماہ کا وقت ہے۔دسمبر سے پہلے شہباز شریف کی مفاہمتی پالیسی کو اپنانا ہوگا۔ ایک سابق وزیر نے بتایا کہ نواز شریف اس وقت صرف مریم نواز کی سیاست کو دیکھ رہے ہیں۔سینئر لیگی رہنما کے خدشات کے جواب میں نواز شریف نے مریم نواز کے سیاسی مستقبل کی فکر کا اظہار کیا جس پر سابق وفاقی وزیر نے بتایا کہ ان کے ساتھ ساتھ کچھ اور سینئر پارٹی رہنما بھی میاں نواز شریف کو یہی کہہ رہے ہیں کہ ابھی شہباز شریف کو آگے لائیں اور بعد میں مریم نواز کے لیے مواقع موجود ہوں گے۔ ن لیگ کی اکثریت نے کہا ہے کہ شہباز شریف کی پالسیی پارٹی کو بکھرنے سے بچا سکتی ہے۔