اسلام نے خواتین کو تحفظ اور جائیداد کے حقوق فراہم کیے، ڈاکٹر عارف علوی

ملکی ترقی کیلئے خواتین کو ہراسانی سے بچانا اور خود مختاربنانا اشد ضروری ہے، حکومتیں اور قوانین اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے، خواتین اب کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔ صدر مملکت اور گورنرپنجاب کا برگد کے زیراہتمام سیمینار سے خطاب

sanaullah nagra ثنااللہ ناگرہ اتوار 26 ستمبر 2021 22:27

اسلام نے خواتین کو تحفظ اور جائیداد کے حقوق فراہم کیے، ڈاکٹر عارف علوی
لاہور (اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 26 ستمبر2021ء) صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے کہا ہے کہ اسلام نے خواتین کو تحفظ اور جائیداد کے حقوق فراہم کیے، ملکی ترقی کیلئے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ دینا اورخود مختار بنانا اشد ضروری ہے، حکومتیں اور قوانین اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے، خواتین آسان قرضہ جات کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں ، گورنرپنجاب چوہدری سرور نے کہا کہ خواتین اب کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق مقامی ہوٹل لاہور میں پنجاب کے خاتون محتسب کے ادارے، یو این وویمن اورنوجوانوں کے لئے کام کرنے والے ادارے برگد کے زیراہتمام سیمینار منعقد کیا گیا۔ خاتون محتسب بلوچستان صابرہ اسلام، وفاقی محتسب کشمالہ طارق، چیف آپریٹنگ آفیسر پنجاب سیف سیٹیز اتھارٹی محمد کامران خان، سینیٹر ولید اقبال، ایم پی اے عظمی کاردار،، سیکشن آفیسرمحکمہ امور نوجوانان مس سندس، صوبائی سیکرٹری انسانی حقوق اور اقلیتی امور ندیم الرحمان، ملکی نمائندہ اقوام متحدہ خواتین شرمیلہ رسول، ایگزیکٹو ڈائریکٹر برگد صبیحہ شاہین، سول سوسائٹی سے مالک، بشریٰ خالق اور شہزاد احمد خان اور مختلف یو نیورسٹیوں کے طلبہ طالبات نے سیمینار میں شرکت کی جبکہ نور عمران اور نبیلہ مالک نے میزبانی کے فرائض سرانجام دئیے۔

(جاری ہے)


صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ان قدامات کو سراہا جن کے تحت خواتین کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور ہراسانی سے بچاو کے ادارے فعال کئے جا رہے۔ انہوں نے خواتین کو ہراسانی سے تحفظ، انہیں جائیداد کے حقوق دینے اورخواتین کی خودمختاری کو ملکی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا۔

اسلام نے خواتین کو تحفظ اور جائیداد کے حقوق فراہم کیے جن کا 1400 سال پہلے تصوربھی نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے کو خواتین کے خلاف ہونے والے جرائم اور ہراسانی کو زبردستی بند کروانا چاہیے۔ حکومتیں اور قوانین اکیلے یہ کام نہیں کر سکتے۔ فرسودہ ثقافتی روایات کی وجہ سے خواتین جائیداد کے حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے عدالتوں کے حالیہ فیصلوں خاتون محتسب کے دفاتر کو فعال کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین آسان قرضہ جات کی سہولت سے فائدہ اٹھائیں جن سے اس وقت فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا۔ گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اب کئی شعبوں میں مردوں سے آگے نکل رہی ہیں۔ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ایک ترقی یافتہ پاکستان کو یقینی بنائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ ایک قونی تریح ہے۔

انہوں نے خاتون محتسب کے ادارے کو سراہا اور سماجی و معاشی حیثیت دینے کے لیے محتسب کے ادارے کو مزید اختیارات دینے کی تجویز دی۔ ان کا کہنا تھا کہ سزاؤں کا ایک موثر نظام خواتین کو ہراساں کرنے کی لعنت کو روک دے گا۔ خاتون محتسب پنجاب نبیلہ حاکم علی نے شرکاء کو پنجاب میں خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنے ادارے کے کام کے حوالے سے بریفنگ دی۔

انہوں نے کہا کہ خاتون محتسب کا ادارہ ہر سطح پر اور پنجاب میں ہر قسم کے دفاتر/ کام کی جگہوں پر انکوائری کمیٹیوں کے قیام کے لیے سخت کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے شہریوں اور اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا کہ وہ خواتین کو ہراساں کرنے اور جائیداد کے حقوق سے متعلقہ شکایات کے لیے اس ترقی پسند اور قانونی طور پر مضبوط ادارے تک رسائی حاصل کریں۔سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے، یو این وویمن کی ملکی نمائندہ شرمیلہ رسول نے کہا کہ '' صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی پالیسی یو این ویمن کی تکنیکی مدد سے تیار کی گئی جو کہ ادارے کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک ہے پھر بھی ہمیں اس کے موثر نفاذ کے لیے اپنے تمام پارٹنرزکے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

مس رسول نے مزید کہا کہ صنفی مساوات اس وقت تک حاصل نہیں کی جا سکتی جب تک خواتین کو پیشہ ورانہ ترقی اور ترقی کے مساوی مواقع نہ دیے جائیں، جس کے لیے کام کی جگہوں کو ہراسانی سے پاک کرنا ہوگا۔ قومی سیمینارمیں حکونتی اسٹیک ہولڈرز، سول سوسائٹی اور پارلیمنٹیرزکے ساتھ دو انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوئے جن میں خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے کرداراور خاتون محتسب کے ادارے کو مظبوط کرنے اوراسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کے مختلف طریقہ کار تجویزکئے گئے۔

حکومتی عہدیداروں اورخاتون محتسب نے قانون کے نفاذ میں موجود عملی مسائل پرایک دوسرے کو اپنی آراء سے آگاہ کیا۔ پینل میں موجود لوگوں نے خواتین کو ہراسانی سے روکنے، خواتین کے حقوق کے تحفظ اور جائیدادوں کے قبضے کے حوالے سے اقدامات اور قانون کے موثر نفاذ کے حوالے سے ایک روڈ میپ بنانے پر بھی اتفاق کیا۔