تعلیمی ادارے مردم سازی کی فیکٹریاں ہوتی ہیں جہاں انسان ڈھالے جاتے ہیں،ارباب امجد کاسی

سکول قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ کی تربیت کا کام انجام دیتے ہیں،زندگی کے تمام شعبہ جات کی راہ گزر تعلیمی اداروں سے ہوکر ہی گزرتی ہے، قوموں کی ترقی کا راز بہترین تعلیمی میں مضمر ہے، ایس ایس پی خضدار

جمعرات 25 نومبر 2021 16:16

خضدار(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 25 نومبر2021ء) ٍڈسٹرکٹ پولیس آفیسر ارباب امجد کاسی نے کہاہے کہ تعلیمی ادارے مردم سازی کی فیکٹریاں ہوتی ہیں جہاں انسان ڈھالے جاتے ہیں۔اسکول قلب و نگاہ اور ذہن و دماغ کی تربیت کا کام انجام دیتے ہیں۔ابتدائے افرینش سے لیکر دنیا کی تمام ترقی اور ارتقائ میں تعلیم کو اساسی اہمیت حاصل رہی ہے کیونکہ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ زندگی کے تمام شعبہ جات کی راہ گزر تعلیمی اداروں سے ہوکر ہی گزرتی ہے۔

اسی لئے یہ انتہائی ضروری ہے تعلیمی ادارے کی نہ صرف عمارت بہتر ہو بلکہ اسکول کے اساتذہ ،پرنسپل اور دیگر اسٹاف تربیت یافتہ، اعلیٰ تعلیم یافتہ ،تجربہ کار مشفق اور اعلیٰ اوصاف کا حامل ہوں اور والدین اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ایسے اسکولوں کو تفویض کرے کہ جہاں بچوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مذہبی، ذہنی ،جذباتی اور جسمانی تربیت کے وافر مواقع دستیاب ہوں جبکہ تعلیمی اداروں کے اوپر یہ فرض عائد ہے کہ وہ بچوں کو ایسی تعلیم فراہم کریں جو انہیں ایک ذمہ دار شہری، ایک کامیاب انسان بنا سکے اور وہ نہ صرف اپنی گھریلو زندگی بہتر طریقے سے گزارنے کے قابل ہوجائیں بلکہ معاشرتی تقاضوں کو بھی احسن طریقے سے پورا کرسکیں۔

(جاری ہے)

تعلیمی ادارے نہ صرف بچے کو غوغائے علم سے آراستہ کرے بلکہ اللہ سے ڈرنے والے ،انسان دوست،ہمدرد،صلہ رحم معاشرے کے لئے کارآمد انسان تیار کرنے کے اہل ہوں۔ بچوں کے مستقبل کا دارو مدار یقیناً اسکول اور اس کی فراہم کردہ تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے اور بہترین تعلیم ہی بچیوں کے مستقبل کو درخشاں اور تابناک بنانے کا ذریعہ ہے ان خیالات کا اظہار وہ قادرآباد خضدار میں قائم الزیم پبلک اسکول کے دورے کے موقع پر کیا دریں اثنائ الزیم پبلک اسکول کے ڈائریکٹر محمدعالم براہوئی، ڈپٹی ڈائریکٹر اقبال مینگل اور پرنسپل فاطمہ مینگل نے انہیں کلاسوں کے وزٹ کرائیں اور طلبہ کی کارکردگی رپورٹ پیش کیے جس پر ایس ایس پی خضدار نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ تعلیم کے مقصد میں سب سے پہلی اور بنیادی چیز جس کی طرف سب سے زیادہ توجہ کی ضرورت ہے وہ تعلیم کا اعلیٰ مقصد اور بلند نصب العین ہے جس کی بدولت فارغین معاشرے کی صلح و فلاح میں اپنا گرانقدر رول انجام دے سکتے ہیں۔

یہاں آکر مجھے یہ احساس ہوا کہ ہمارے مستقبل کے معماروں کی تربیت کماحقہ ہورہی ہیں کیونکہ طلبہ کے نزدیک پڑھنے لکھنے کا مقصد اچھی ملازمتوں کے حصول کی بجائے ملک کو اجتماعی سطح پر کوئی خاطر خواہ فائدہ پہنچانے کا عزم ہے۔ میں ایک نیک اور صالح معاشرے کی تشکیل میں تعلیم کو ایک کارگر ہتھیار گردانتا ہوں۔ ہماری آبیاری ان تعلیمی اداروں میں ہوئی ہے، ان اداروں میں آکر اپنا سوہنا بچپن اور استادوں کی شفقت و محبت کی یادیں تازہ ہوتی ہیں،خواہش ہے کہ تعلیمی ادارے ترقی کریں ان کی ترقی میں قوم کی ترقی ہے

متعلقہ عنوان :