جوناگڑھ پربھارت کے جبری قبضے کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے دستخطی مہم کا آغاز

پیر 29 نومبر 2021 14:35

جوناگڑھ پربھارت کے جبری قبضے کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے دستخطی ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 نومبر2021ء) 1947 میں جوناگڑھ پربھارت کے جبری قبضے کے خلاف تحریک کو تیز کرنے کے لیے ایک دستخطی مہم شروع کی گئی  ہے ۔  ریاستی کونسل نے بابی خاندان کے آخری حکمران محمد مہابت خانجی سوئم کی سربراہی میں تقسیم برصغیر کے بعد جوناگڑھ کو نئے پاکستان میں ضم کر دیاتھا۔کشمیر میڈیا سروس کی طرف سے جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق 25 نومبر 2021 کو شروع ہونے والی دستخطی مہم کا مقصد اقوام متحدہ اور بین الاقوامی اداروں اور فورمزکی توجہ اس مسئلے کی طرف مبذول کراناہے۔

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ ریاست جوناگڑھ پر قبضہ بھارت کی جانب سے پاکستان کی جغرافیائی حدود کی پہلی خلاف ورزی تھی۔ جوناگڑھ کا مسئلہ اقوام متحدہ کے سب سے پرانے حل طلب ایجنڈوں میں سے ایک ہے جس کے فوری حل کی ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیاہے کہ بھارت ایک ملک نہیں بلکہ ایک خطہ ہے جہاں مختلف قومیں رہتی ہیں اور ان سب کو آزادی کا حق حاصل ہے۔یہ مہم جوناگڑھ پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کو اجاگر کرنے کے لیے10 دسمبر تک جاری رہے گی۔

دستخطی مہم سے جوناگڑھ کے مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگرکرنے میں مدد ملے گی۔بین الاقوامی قانون کے مطابق جوناگڑھ پاکستان کا ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور ریاست پر بھارتی قبضہ ایک ننگی جارحیت ہے۔ دستخطی مہم کا مقصد پاکستان کے ساتھ جوناگڑھ کے الحاق کے سلسلے میں مسئلے کے جلد اور فوری حل کے لیے دنیا کو آگاہ کرنا ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں میں سے ایک تھا۔جوناگڑھ کی ریاستی کونسل نے 15 ستمبر 1947 کو قائداعظم کے ساتھ الحاق کی دستاویز پر دستخط کیے تھے۔
>