میڈیکل طالبہ مبینہ خودکشی کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت

پولیس نے طالبہ سے زیادتی کا امکان مسترد کر دیا،طالبہ کے کمرے سے پولیس کو ایک نہیں بلکہ دو تحریریں ملیں

Muqadas Farooq مقدس فاروق اعوان بدھ 1 دسمبر 2021 11:55

میڈیکل طالبہ مبینہ خودکشی کیس کی تحقیقات میں اہم پیش رفت
لاڑکانہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین -یکم دسمبر 2021ء) چانڈ کا میڈیکل کالج کی طالبہ کی مبینہ خودکشی کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔پولیس نے طالبہ سے زیادتی کا امکان مسترد کر دیا ہے۔جب کہ موت کی حتمی وجہ کا تعین میڈیکل اور کیمیکل رپورٹس آنے کے بعد ہو گا۔ایس ایس پی لاڑکانہ کے مطابق طالبہ کے کمرے سے پولیس کو ایک نہیں بلکہ دو تحریریں ملی ہیں۔

ایک تحریر لاش کے بالکل قریب اور دوسری ایک نوٹ بک سے ملی۔دونوں تحریروں میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن اس کا فارنزک کروایا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ نے نوشین کاظمی کی پراسرار موت کی جوڈیشل انکوائری کا حکم دے دیا ہے۔خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے چانڈکا میڈیکل کالج لاڑکانہ میں میڈیکل کی طالبہ نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی تھی۔

(جاری ہے)

پوسٹ مارٹم ٹیم میں شامل ڈاکٹر کے مطابق لاش کے چار پانچ گھنٹے لٹکے رہنے کی وجہ سے گردن کا سائز دو تین انچ بڑھ گیا تھا۔

پولیس ترجمان کے مطابق پنکھے سے نوشین کے فنگر پرنٹ ملے ہیں اور ان کی انگلیوں پر بھی مٹی کے نشان موجود تھے۔نوشین کاظمی کے کمرے سے دو نوٹ بھی ملے ہیں۔ پولیس ترجمان کے مطابق ایک نوٹ پیڈ کے قریب اور ایک الماری سے ملا ہے اور دونوں میں تقریبا ایک ہی طرح کا پیغام ہے۔ بیڈ سے ملنے والے نوٹ پر رومن میں تحریر ہے کہ میں خود اپنی مرضی سے ہیکنگ کرنے جا رہی ہے ہوں ، نہ کسی کے پریشر میں کر رہی ہوں۔

نوشین کے والد کے مطابق جب وہ کمرے میں داخل ہوئے تو لاش سامنے لٹکی ہوئی تھی اور دروازے کی کنڈی ٹوٹی ہوئی تھی۔انہوں نے دونوں نوٹس کی تصاویر لیں تاکہ نوشین کی والدہ سے اس کی لکھائی کی شناخت کریں۔ہدایت کاظمی کے مطابق ان کی بیٹی سے ٹیلیفون پر بھی بات ہوئی تھی جس میں انہوں کسی خدشے یا پریشانی کا اظہار نہیں کیا۔پولیس نے الماری میں موجود نوشین کا ٹیلیفون بھی برآمد کر لیا ہے۔
>