اسٹیٹ بینک کوخود مختاری دینے سے ملک کا دیوالیہ نکلنے کا تاثر قطعاً درست نہیں‘ ہمایوں اختر خان

حکومت بوقت ضرورت ملک کے کسی بھی کمرشل بینک سے قرضہ لے سکتی ہے ‘ سینئر مرکزی رہنما ء

ہفتہ 29 جنوری 2022 12:20

اسٹیٹ بینک کوخود مختاری دینے سے ملک کا دیوالیہ نکلنے کا تاثر قطعاً ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 جنوری2022ء) پاکستان تحریک انصاف کے سینئر مرکزی رہنما و سابق وفاقی وزیر ہمایوں اختر خان نے کہا ہے کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میںسنٹرل بینکس کو خود مختاری حاصل ہے اس لئے پاکستان میں اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کوئی اچنبھے کی بات نہیں ،حکومت کا اسٹیٹ بینک سے قرضہ لینے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ نئے نوٹ چھاپے جائیں لیکن کسی معیشت کیلئے بھی یہ پالیسی قطعا ً سود مند نہیں ہوتی،حکومت بوقت ضرورت ملک کے کسی بھی کمرشل بینک سے قرضہ لے سکتی ہے جبکہ سکوک بانڈز کا اجراء بھی کیا جا سکتا ہے ۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جنہیں معلوم ہے کہ بہت سے ممالک میں ان کے سنٹرل بینکس کو خود مختاری حاصل ہے لیکن یہاں پر صرف سیاست چمکانے کیلئے مخالفت او رمنفی پراپیگنڈا کیا جارہا ہے ۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختاری ملنے سے یہ ہوگا کہ حکومت مانیٹری پالیسی کے حوالے سے کوئی مداخلت نہیں کر سکے گی اور ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔

اسٹیٹ بینک پاکستان کا ادارہ ہے اور اس کے بورڈ میں پاکستان کے لوگ بیٹھے ہوئے ہیںجن کا طویل کیرئیر ہے ، لوگ اپنے ملک کیلئے بیرون ملک سے نوکریاں چھوڑ کر پاکستان آتے ہیں لیکن اپوزیشن سیاست چمکانے کے لئے ان کی ذات کو حرف تنقید بناتی ہے جو درست اقدام نہیں ہے ۔ انہو ںنے کہا کہ آئی ایم ایف سے پروگرام کی بحالی سے ہمارے بہت معاملات میں بہتری آئے گی ، جب آئی ایم ایف سے پروگرام بحال ہونے کی امید پیدا ہوئی تو وہی سکوک بانڈز جن کا 8.25یا8.35پر اجراء ہونا تھا وہ7.95پر ہوا جس سے پاکستان کو فائدہ ہوا ۔ انہوںنے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ اسٹیٹ بینک کو خود مختاری دینے سے ملک کا دیوالیہ نکل جائے گا بلکہ اس سے ہم درست سمت میں گامزن ہوئے ہیں۔