زرعی معیشت کو تقویت اور سیڈ سیکٹر کو فروغ دینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کے اعلانات قابل ستائش ہیں‘ شہزاد علی ملک

زراعت پر توجہ دینے سے غربت کے خاتمے اور زرمبادلہ کے حصول میں مدد ملے گی‘صدر لاہور چیمبر کاشف انور کی پریس کانفرنس

پیر 18 مارچ 2024 17:06

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 مارچ2024ء) پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے زرعی معیشت کو تقویت اور سیڈ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف کے اعلان کردہ اقدامات کو سراہتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ اس کے فوری اور دیرپا نتائج برآمد ہونگے۔لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور کے ہمراہ لاہور چیمبر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین شہزاد علی ملک نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کے اعلانات زراعت اور سیڈ سیکٹر کو فروغ دینے کے لیے ان کا عزم ظاہر کرتے ہیں۔

زراعت پاکستانی معیشت کا اہم ستون ہے جبکہ سیڈ سیکٹر زرعی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن وزیراعظم کے اعلی پیداوار کی صلاحیت والے بیج درآمد کرنے کے منصوبے کو سراہتے ہیں جس کا مقصد زرعی پیداوار میں اضافہ ہے جبکہ سیڈ مافیا، گندم کے ذخیرہ اندوزوں، بنولا کو بیج کی حیثیت سے فروخت کرنے والے کاٹن جنرز اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائیوں کا عزم بھی دور رس نتائج کا حامل ہوگا۔

(جاری ہے)

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر کاشف انور نے بھی حکومت کی اصلاحات اور سپورٹ کے ذریعے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے عزم کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی پیداوار میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ زرعی شعبہ پر توجہ دینے سے نہ صرف ملک سے غربت کے خاتمے میں مدد ملے گی بلکہ قیمتی زرمبادلہ کا حصول بھی ممکن ہوسکے گا۔ انہوں نے نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر آصف علی خان (تمغہ امتیاز) جیسی قابل شخصیت کی تقرری اس ادارہ سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں مددگار ثابت ہوگی کیونکہ وہ ریسرچ اور مینجمنٹ میں وسیع تجربہ کے حامل ہیں۔

شہزاد علی ملک نے چولستان کی بنجر زمین کو زیر کاشت لانے کے لیے سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل کے گرین پاکستان انیشیٹو کو سراہتے ہوئے معیاری بیج کے استعال کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ شہزاد علی ملک، جنہوں نے اعلیٰ چینی سائنسدانوں کے تعاون سے پاکستان میں ہائبرڈ سیڈ ٹیکنالوجی کا آغاز کیا، نے کہا کہ ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی منتقل، مقامی سطح پر ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے ذریعے سیڈ کی بہت سی اقسام کی ڈویلپمنٹ نے چاول کی برآمدات کو بیس سال کے اندر 462ملین ڈالر سے بڑھا کر تین ارب ڈالر تک پہنچا دیا یعنی برآمدات میں چھ سو فیصد اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ پانچ بڑی فصلوں کپاس، گندم، چاول، مکئی اور گنے میں سے صرف دو فصلیں چاول اور مکئی ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو اپنانے کی وجہ سے برآمدات کے لیے سرپلس پیدا کرہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہائبر چاول کی کامیابی کے ماڈل کو اپناتے ہوئے کپاس، گندم، خوردنی تیل اور دالوں کے شعبوں میں بھی تقریبا دس ارب ڈالر کا امپورٹ متبادل حاصل کیا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پاکستان ہائی ٹیک ہائبرڈ سیڈ ایسوسی ایشن کو بہترین خدمات کے باوجود نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی میں پی ایچ ایچ ایس اے کو فوری طور پر نمائندگی دی جائے۔