ملک میں ایکس کی بندش پر ایک اور ہائیکورٹ نے جواب طلب کرلیا

دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کھلے ہیں تو صرف ٹویٹر کیوں بند کیا گیا؟ وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے جواب طلب کرنا ضروری ہے۔ پشاور ہائیکورٹ کے ریمارکس

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 21 مارچ 2024 10:54

ملک میں ایکس کی بندش پر ایک اور ہائیکورٹ نے جواب طلب کرلیا
پشاور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 21 مارچ 2024ء ) ملک میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کی بندش پر ایک اور ہائیکورٹ نے جواب طلب کرلیا۔ تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں ایکس ( ٹویٹر) کی بندش سے متعلق درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس اعجاز انور اور جسٹس وقار احمد نے ایکس (ٹویٹر ) بندش سے متعلق درخواست پر سماعت کی، جہاں پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی اے، حکومت اور متعلقہ اداروں سے جواب طلب کرلیا۔

دوران سماعت پشاور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کھلے ہیں صرف ٹویٹر کیوں بند کیا گیا؟ ایکس کو کیوں بند کیا گیا، وزارت داخلہ نے وجہ نہیں بتائی، اس لیے وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے جواب طلب کرنا ضروری ہے، پتا چلناچاہیے کہ ایکس(ٹویٹر) کو کیوں بند کیا گیا ہے۔

(جاری ہے)

ادھر سندھ ہائیکورٹ میں سوشل میڈیا ایپ ایکس کی بندش کے کیس کی سماعت ہوئی جہاں سندھ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا ایپ بندش کیس میں چیئرمین پی ٹی اے کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ٹوئیٹرکی بندش سے متعلق کوئی معقول جواز عدالت کے سامنے پیش نہ کیا گیا تو چیئرمین پی ٹی اے کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائیگی۔

بتایا جارہا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نے توہین عدالت کی درخواست پرتحریری حکم نامہ جاری کردیا، سندھ ہائیکورٹ نے آبزرویشن دی ہے کہ پی ٹی اے نے ایکس کی بندش سے متعلق کوئی معقول جواز عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا، چیئرمین پی ٹی اے توہین عدالت کی کارروائی کیلئے خود کو بے نقاب کررہے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ نےایکس کی بحالی سے متعلق جاری حکم امتناع میں توسیع کردی اور عدالتی احکامات وفاقی حکومت، پی ٹی اے سمیت دیگر کو ارسال کرنے کا حکم دے دیا، عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی اے کی جانب سے جواب جمع کرانے کیلئے مہلت طلب کی گئی ہے، عدالت نے آئندہ سماعت سے قبل وزارت داخلہ اور پی ٹی اے سے جواب طلب کرلیا۔