ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، وفاقی کابینہ نے مزید 2 ایم اویوز کی منظوری دیدی

ورک فورس اور فلم و سنیما میں تعاون کے لیے وفاقی کابینہ سے سرکولیشن پر الگ الگ سمریوں کی منظوری لی گئی

Sajid Ali ساجد علی پیر 22 اپریل 2024 14:21

ایرانی صدر کا دورہ پاکستان، وفاقی کابینہ نے مزید 2 ایم اویوز کی منظوری ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 22 اپریل 2024ء ) ایران کے صدر کے دورہ پاکستان کے موقع پر وفاقی کابینہ نے مزید 2 ایم اویوز کی منظوری دیدی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور ایران نے ورک فورس اور فلم و سنیما میں تعاون کے لیے ایم اویوز کا فیصلہ کیا ہے، وفاقی کابینہ سے سرکولیشن پر الگ الگ سمریوں کی منظوری لے لی گئی، جن کے تحت دونوں ممالک میں ہنر مند افرادی قوت کے تبادلے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے، ایم او یوز کے تحت ورکرز کی فلاح و بہبود کے لیے مشترکہ تعاون کو فروغ دیا جائے گا، ایم او یوز کے تحت ورکرز ویلفیئر فنڈ کے قیام کا جائزہ لیا جائے گا، ایک دوسرے کے ممالک میں ماہر و فود کی سطح پر دورے کیے جائیں گے۔

بتایا گیا ہے کہ دونوں ممالک میں فلم کے تبادلے اور سنیما کو آپریشن کا ایم ایو یو بھی ہوگا، ایم او یو کے تحت فلم کے لیے جوائنٹ پروڈکشن پراجیکٹس کیے جائیں گے، ایک دوسرے کی فلم انڈسٹری کو سمجھنے کے لیے وفود کا تبادلہ کیا جائے گا، ایم او یوز کے تحت پاکستان اور ایران میں فلم ویکس اور دیگر ثقافتی تقریبات کا انعقاد ہوگا۔

(جاری ہے)

علاوہ ازیں ایرانی صدر سید ابراہیم رئیسی کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوئی ہے جس میں دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا، ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی وزیرِاعظم ہاؤس پہنچے تو وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے ایرانی صدر کا استقبال کیا، مسلح افواج کے دستے کی جانب سے ایرانی صدر ڈاکٹر سید ابراہیم رئیسی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین نیک خواہشات کا تبادلہ کیاگیا، دونوں رہنماؤں کی ایران پاکستان دو طرفہ تعلقات کے فروغ اور باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے حوالے سے گفتگو ہوئی، ایرانی صدرڈاکٹر ابراہیم رئیسی نے پاکستان آمد پر پرتپاک استقبال پر وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا جب کہ وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ عام انتخابات کے بعد آپ پہلے سربراہِ مملکت ہیں جو پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں، مجھ سمیت پوری پاکستانی قوم آپ کے اس دورے کا خیر مقدم کرتی ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ نئی منتخب جمہوری حکومت کے بعد سربراہِ مملکت کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے، نور خان ائیر بیس پر وفاقی وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے معزز مہمان کا استقبال کیا، ایرانی صدر کے ہمراہ ان کی اہلیہ اور اعلیٰ سطح کا وفد بھی پاکستان پہنچا ہے، ایرانی وفد میں وزیرِ خارجہ، کابینہ کے ارکان اور اعلیٰ حکام کے علاوہ بڑا تجارتی وفد بھی شامل ہے، ایران اور پاکستانی حکام کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں تجارت، رابطے، توانائی اور زراعت سے متعلق امور پر بات چیت کی جائے گی۔

ترجمان فارن آفس نے کہا ہے کہ ملاقاتوں میں عوامی سطح پر رابطوں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا ایجنڈا بھی شامل ہے، ایرانی صدر کے دورے کے دوران دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون پر بھی بات چیت ہوگی، ایرانی صدر کا دورہ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے ایرانی صدر دورۂ پاکستان کے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی جائیں گے۔