
علما کو تقسیم کرنے کی سازش کی گئی، حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں، مولانا فضل الرحمن
علما کے مقابلے میں علما کو لایا جارہا ہے، حکومت اس معاملے کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائے، اس وقت ہمیں حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں،میڈیا سے گفتگو
پیر 9 دسمبر 2024 19:44
(جاری ہے)
سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ الیکشن سے قبل پی ڈی ایم کی حکومت میں تمام پارٹیوں نے بل پر اتفاق رائے کیا تھا، بل کی پہلی خواندگی پر کوئی اختلاف رائے نہیں ہوا، دوسری خواندگی میں اداروں نے مداخلت کرکے قانون سازی رکوادی، 26 ویں آئینی ترمیم کے مرحلے کے دوران بل کی منظوری کے حوالے سے بات کی جس سے تمام اسٹیک ہولڈرز واقف تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج نیا شوشا چھوڑا گیا کہ یہ پہلے وزارت تعلیم کے ساتھ وابستہ تھے، ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اس مسودے کے اندر تمام مدارس کو کسی بھی وفاق کے ساتھ الحاق کی مکمل آزادی دی گئی ہے چاہے وہ 1860 کے سوسائٹی ایکٹ کے تحت یا وزارت تعلیم کے ساتھ منسلک ہونا چاہیں، ہم نے کوئی اعتراض نہیں کیا، ہر مدرسہ اس حوالے سے آزاد ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اسے تنازع کے طور پر کیوں اٹھایا گیا علما کے مقابلے میں علما کو کیوں لایا جارہا ہی قوم اور مدارس کے طلبہ کو گمراہ کیا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ گزشتہ روز ہم حتمی اعلان کرنے کی طرف جارہے تھے لیکن صدر وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے سربراہ مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی طرف سے 17 دسمبر کو اجلاس بلائے جانے کے بعد اس فیصلے کو روک دیا ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم قانون کی بات کررہے ہیں، مدرسوں کو ایک معاہدے سے وابستہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ہم مدارس کو قانون کے تحت رجسٹر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، حکومت اس معاملے کو سیاسی اکھاڑا نہ بنائے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہمیں حکومت کی کوئی تجویز قبول نہیں، حکومت کی کسی تجویز کو قبول کرنا تو دور اسے چمٹے سے پکڑنے کیلئے بھی تیار نہیں، بل پر تمام فریقین کا اتفاق رائے ہوچکا، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کو قوم کے سامنے رکھا جائے، حکومت اور دیگر ادارے اس کو کیوں چھپا رہے ہیں، ان سب چیزوں کو عوام کے سامنے لایا جائے۔مزید اہم خبریں
-
تاریخ کا سب سے بڑا سیلاب؛ پنجاب میں متاثرین کی تعداد 20 لاکھ تک جا پہنچی
-
عراق میں ٹک ٹاکر کے شوق نے 2 پاکستانی قتل کر ڈالے
-
مریم نواز کشتیوں میں ٹک ٹاک بنانے کی بجائے غیرقانونی ہاؤسنگ سوسائٹیز کیخلاف کارروائی کریں
-
کئی دہائیوں بعد سیلاب کی اتنی خطرناک صورتحال کا سامنا کرنا پڑا
-
راوی علاقے کو سیلاب سے محفوظ بنانا، سڑکیں، جھیل بیراج بنانا روڈا کی ذمہ داری تھی
-
پارک ویوبنانے کیلئے ہم نے پچھلی اور موجودہ حکومت سے کوئی مدد نہیں لی
-
بڑے بلڈرز اسٹیبلشمنٹ کی چھتری تلے حکومتوں میں شامل ہو کر سرکاری زمینوں پر قبضے کرتے ہیں
-
حکومتوں نے دریاؤں کی گزرگاہوں پر ہاؤسنگ سوسائیٹیز کو این اوسی جاری کرکے جرم کیا
-
پارک ویو میں میرے والدین کی قبریں ہیں
-
پارک ویو 2006 میں بنی تھی تب اس کا نام ریور ایج تھا اور اس کے مالکان کوئی اور تھے
-
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے اقدامات سے پوری دنیا کے سکھوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا
-
موسمیاتی تبدیلی تباہی میں بدل چکی، جدید ترین پیشگی وارننگ سسٹم پنجاب میں متعارف کرائیں گے
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2025, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.