پی اے سی نے محکمہ بلدیات کو سندھ بھر کی لوکل کونسلز کے تمام ملازمین کی تنخواہیں ڈیجیٹل پیرول سسٹم کے تحت آن لائن کرنے کا حکم جاری کردیا

سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کی تنخواہیں آن لائن ہونے سے گھوسٹ ملازمین سے چھٹکارہ حاصل ہوسکے گا،نثار کھوڑوکی صدارت میں پی اے سی کا اجلاس

بدھ 14 مئی 2025 21:05

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 14 مئی2025ء)سندھ اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی نے لوکل کونسلز کو سالانہ جاری ہونے والی 160 ارب روپے کی او زی ٹی کی رقم شفاف طریقے سے خرچ ہونے کے لئے سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کی تنخواہیں ڈیجیٹل پیرول سسٹم کے ذریعے آن لائن کرنے کا محکمہ بلدیات کو حکم جاری کردیا ہے۔بدھ کو پی اے سی کا اجلاس چیئرمین نثار کھوڑو کی صدارت میں کمیٹی روم میں ہوا۔

اجلاس میں کمیٹی کے رکن مخدوم فخرالزمان،محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری سمیت سکھرڈویژن کی مختلف لوکل کونسلز کے چیف میونسپل افسران سمیت دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں محکمہ سکھر ڈویژن کی مختلف لوکل کونسلز کی سال 2019سے 2021 تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے محکمے سے استفسار کیا کہ سندھ حکومت سالانہ لوکل کونسلز کو 160 ارب روپے او زی ٹی رقم فراہم کر رہی ہے مگر تاحال گھوسٹ ملازمین سے جان چھڑانے کے لئے لوکل کونسلز کے ملازمین کی تنخواہیں آن لائن کیوں نہیں کی جا رہی ہیں۔

جس پر محکمہ بلدیات کے ایڈیشنل سیکریٹری نے پی اے سی کو بتایا کہ ورلڈ بینک کے کلک پروجیکٹ کے تحت پہلے مرحلے میں صرف کے ایم سی میں ایس اے پی سسٹم پر کے ایم سی ملازمین کی تنخواہیں آن لائن کی گئی ہیں۔ چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کہ سندھ بھر کی تمام لوکل کونسلز کے ملازمین کی تنخواہیں آن لائن کی جائیں جس سے لوکل باڈیز کے ملازمین کی ڈیٹا ڈیجیٹل سسٹم پر منتقل ہوجائے گااور گھوسٹ ملازمین سے چھٹکارہ بھی حاصل ہوسکے گا۔

نثار کھوڑو نے کہا کہ تنخواہیں آن لائن ہونے سے او زی ٹی کی رقم کے باقی حصے سے ہر لوکل کونسل میں ترقیاتی کام بہتر طریقے سے کئے جا سیکیں گے اور لوکل کونسلز کو جاری ہونے والی او زی ٹی رقم شفاف طریقے سے خرچ ہونے سے متعلق مانیٹرنگ بھی آسانی سے کی جاسکے گی کیونکہ او زی ٹی کی رقم کا بڑا حصہ ملازمین کی تنخواہوں پر آن لائن خرچ ہونے سے ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی شکایات کا بھی ازالہ ہوسکے گا اور لوکل کونسلز میں ترقیاتی کاموں پر بہتر طریقے سے فوکس کیا جا سکے گا۔

اس موقع پر پی اے سی نے محکمہ بلدیات کو سندھ بھر کی لوکل کونسلز کے تمام ملازمین کی تنخواہیں ڈیجیٹل پیرول سسٹم کے تحت کے ذریعے آن لائن کرنے کا حکم جاری کردیا۔ اجلاس میں میونسپل کمیٹی گمبٹ میں سال 2017 اور سال 2018ع میں چیف میونسپل افیسر کیجانب سے ٹھیکیداروں سے جنرل سیلز ٹیکس کی مد میں 22 لاکھ روپے وصول نہ کرنے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کے جرم میں اس وقت کے چیف میونسپل افسر گمبٹ کے خلاف مقدمہ دائر کرانے کی محکمہ بلدیات کو ھدایت کردی۔

اجلاس میں پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے میونسپل کمیٹی گھوٹکی میں ٹھیکیداروں سے ٹیکس کی مد میں سندھ روینیو بورڈ کے 20 لاکھ روہے وصول کرنے کے باوجود سرکاری خزانے میں ٹیکس کی رقم جمع نہ کرانے اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے پر محکمہ بلدیات کو تحقیقات کرکے ذمیدار افسر کو نوکری سے برطرف کرنے کی ہدایت کردی۔ اجلاس میں ضلع کونسل سکھر کے ایک رہائشی بنگلو پر 2014 سے عدالت کے اسٹے پرمحمد نواز مہر نامی چیف افیسر کے قابض ہونے کا انکشاف سامنے آیا۔

پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے استفسار کیا کے مذکورہ افسر کیا 2014ع سے ضلع کونسل سکھر میں چیف آفیسر تعینات ہے جو سرکاری بنگلو پر ابھی تک قابض ہی محکمہ بلدیات نے پی اے سی کو بتایا کے محمد نواز مھر پہلے ضلع کونسل سکھر میں چیف افسر تعینات تھا اب مٹیاری میں چیف افسر تعینات ہے جس کے باوجود عدالت کے اسٹے کے ذرہعے ابھی تک ضلع کونسل سکھر کے بنگلو پر قابض ہے۔

پی اے سی چیئرمین نے کہا کت جو افسر سکھر میں تعینات ہی نہیں ہے تو وہ سرکاری بنگلو ان کی رہائش کے لئے استعمال میں نہیں ہونا چاہئے۔پی اے سی نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے مذکورہ چیف افسر سے بنگلو کی رینٹ رکور کرانے کی ہدایت کردی۔ پی اے سی نے ضلع کونسل سکھر کیجانب سے ٹھیکیداروں سے ٹیکس کی مد میں وصول کئے گئے 50 لاکھ روپے سرکاری خزانے میں جمع نہ کرانے پر ڈاریکٹر لوکل فنڈ کو انکوائری کرکے رپورٹ فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔