مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا، تین دہائیوں پرانے تعلقات میں تبدیلی

گ*ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کیا، چین کے معاملے پر بھارت امریکا تعلقات میں دراڑ

ہفتہ 30 اگست 2025 22:40

مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا، تین دہائیوں پرانے ..
ٰواشنگٹن (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 30 اگست2025ء) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کا اپنا متوقع دورہ منسوخ کر دیا ہے، جس کے بارے میں ابتدائی طور پر یہ کہا گیا تھا کہ وہ رواں برس کواڈ (کواڈریلیٹرل ڈائیلاگ) اجلاس کے سلسلے میں بھارت جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد بھارت اور امریکہ کے تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا ہو گئی ہے، جو کہ کئی دہائیوں سے ایک مستحکم اتحادی تعلقات کی نمائندگی کر رہا تھا۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے تین دہائیوں پرانے بھارت امریکا رومانس کو ختم کر دیا ہے۔ گزشتہ تین دہائیوں سے دونوں ملکوں کے صدور نے بھارت کو ایک ابھرتے ہوئے اتحادی کے طور پر دیکھا اور اپنے بڑے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اختلافات کو نظر انداز کیا۔ تاہم، صدر ٹرمپ نے اپنی تجارتی پالیسیوں، خاص طور پر چین کے حوالے سے، ایک نیا رخ اختیار کیا ہے، جس کے باعث بھارت کے ساتھ تعلقات میں تناؤ پیدا ہوا ہے۔

(جاری ہے)

واضح رہے کہ ٹرمپ نے بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات پر سخت موقف اپنایا تھا اور بھارت کی جانب سے درآمدی محصولات میں اضافے پر تنقید کی تھی۔ امریکہ نے بھارت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ اپنے تجارتی مفادات کو امریکہ کے خلاف بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات میں تناؤ آیا۔ماہرین کا خیال ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا حالیہ چین کا دورہ، امریکہ بھارت تعلقات میں دراڑ ڈالنے کا موقع ثابت ہو سکتا ہے۔

مودی کا چین کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش نے امریکہ کے ساتھ بھارت کے تعلقات میں پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ٹرمپ نے چین کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو انتہائی کشیدہ بنا دیا تھا۔ٹرمپ کے بھارت دورے کی منسوخی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان معیشت اور سلامتی کے شعبوں میں تعلقات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ بھارت کے ساتھ امریکہ کا تعلق خاص طور پر چین کے خلاف ایک اسٹریٹجک اتحادی کے طور پر اہم تھا، لیکن ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے اس تعلق کو متنازع بنا دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث بھارت میں یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ امریکہ اپنے مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف چین کے خلاف کھڑا ہونے کے لیے بھارت کو ایک ہراساں کرنے والے اتحادی کے طور پر استعمال کر رہا ہی