بحران پر قابو پانے کا انوکھا طریقہ؛ چینی کا استعمال کم کرنے کیلئے زیادہ ٹیکسز لگانے کی تجویز

70 فیصد چینی انڈسٹری استعمال کرتی ہے عام صارف نہیں، حکام نے قیمتوں میں استحکام کے لیے درآمد کی تجویز دی اور کہا کہ نومبر میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے؛ قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ

Sajid Ali ساجد علی منگل 12 اگست 2025 08:44

بحران پر قابو پانے کا انوکھا طریقہ؛ چینی کا استعمال کم کرنے کیلئے زیادہ ..
اسلام آباد ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 اگست 2025ء ) ملک میں چینی کے بحران پر قابو پانے کے انوکھے طریقہ کے تحت چینی کا استعمال کم کرنے کیلئے زیادہ ٹیکسز لگانے کی تجویز دیدی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس کنوینئر محمد عاطف خان کی زیر صدارت ہوا جس میں وزارت صنعت و پیداوار کے حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے خبردار کیا کہ وسط نومبر سے قبل مارکیٹ میں چینی کی مصنوعی قلت پیدا کی جا سکتی ہے جس پر وزارت صنعت کے حکام کی طرف سے چینی کا استعمال کم کرنے کے لیے زیادہ ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی۔

وزارت صنعت حکام نے کہا کہ ’اس وقت ملک میں 17 لاکھ ٹن چینی کا ذخیرہ موجود ہے جو 15 نومبر تک کافی ہے، ماہانہ کھپت 5 لاکھ 40 ہزار میٹرک ٹن ہے‘، جس پر کنوینیئر کمیٹی محمد عاطف خان نے کہا کہ ’اس وقت ملک میں 78 شوگر ملز فنکشنل ہیں، 78 شوگر ملوں کے مالکان صرف 25 ہیں، شوگر ملز کے ڈائریکٹرز اور اکثریتی شیئر ہولڈرز کی تفصیلات پیش کی جائیں، یہ معلومات میڈیا کو فراہم کی جائیں تاکہ عوام سیاسی پس منظر سے آگاہ ہو سکیں، شوگر ملوں کے ڈائریکٹرز اور شیئر ہولڈر کی تفصیلات میڈیا کو دیں گے، میڈیا خود دیکھ لے گا کس شوگر مل کے پیچھے کیا سیاسی بیک گراؤنڈ ہے‘۔

(جاری ہے)

اجلاس میں بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال 40 کروڑ 20 لاکھ ڈالر یعنی تقریباً 112 ارب روپے کی چینی ایکسپورٹ ہوئی جس سے قبل پرچون قیمت 125 سے 130 روپے فی کلو تھی لیکن بعد میں یہ 200 روپے تک جا پہنچی، برآمد سے قبل شوگر ملز سے 140 روپے فی کلو سے زیادہ نہ بیچنے کا معاہدہ ہوا تھا، تاہم قیمتیں بڑھ گئیں، چینی کی پیداوار میں ایک ملین ٹن کمی ہوئی ہے اور رواں سال پیداوار کا تخمینہ 5.8 ملین میٹرک ٹن ہے، ممکن ہے چینی کی درآمد کی ضرورت نہ پڑے یا صرف 2 لاکھ ٹن درآمد کرنی پڑے۔

اجلاس کو بریفنگ دی گئی کہ 70 فیصد چینی انڈسٹری استعمال کرتی ہے عام صارف نہیں، حکام نے قیمتوں میں استحکام کے لیے درآمد کی تجویز دی اور کہا کہ نومبر میں قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے، چینی کا استعمال کم کرنے کے لیے زیادہ ٹیکس لگانے کی سفارش ہے، جبکہ ایف بی آر حکام نے بتایا کہ چینی پر 15 روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی لگانے کا مقصد انڈسٹری کی حوصلہ شکنی تھا لیکن اس کے بعد انڈسٹری نے مینوفیکچررز کی بجائے ہول سیلرز سے خریداری شروع کردی۔