×زرعی یونیورسٹی کی تعمیر شدہ بلڈنگ کو نجی اور عسکری ادارے کے حوالے کرنے کا فیصلہ علم و تعلیم دشمن اقدام ہے، وارث افغان

جمعرات 28 اگست 2025 21:05

ل*کوئٹہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 28 اگست2025ء) پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زونل سیکریٹری وارث افغان، زونل سینئر معاون سیکریٹری ایمل ساروان، زونل ڈپٹی سیکریٹریز وحدت افغان، زوہیب کبزی، مامون شعور، حلیم لویال، شفیق دلشان، زرمینہ خپلواک، تاترہ روشان، ڈاکٹر تانیہ اور سرینا کاکڑ نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں صوبے کے واحد زرعی یونیورسٹی کی جدید اور اربوں روپے کی لاگت سے تعمیر شدہ بلڈنگ کو نجی اور عسکری ادارے کے حوالے کرنے کے فیصلے کو علم و تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا رہنماں نے کہا کہ بلوچستان کی معیشت کا بنیادی انحصار زراعت اور لائیو اسٹاک پر ہے اور یہ دونوں شعبے عملی (پریکٹیکل)نوعیت کے ہیں جن کی اہمیت کسی بھی طور پر کم نہیں کی جا سکتی۔

(جاری ہے)

موجودہ حالات کا تقاضا یہ ہے کہ زرعی یونیورسٹی کو مزید فعال، جدید اور تحقیقی بنیادوں پر استوار کیا جائے تاکہ صوبے کے نوجوان کسانوں اور طلبہ کو جدید فیلڈ ریسرچ کے مواقع فراہم ہوں۔انہوں نے کہا کہ 2021 میں صوبائی اسمبلی نے زرعی یونیورسٹی کے قیام کے لیے ایک جامع اور مثر ایکٹ منظور کیا تھا، جس کے بعد ضرورت اس امر کی تھی کہ فوری طور پر وائس چانسلر، پرو وائس چانسلر، رجسٹرار، ٹریژرار اور دیگر شعبوں کو فعال کر کے یونیورسٹی کو جدید ریسرچ کا مرکز بنایا جاتا۔

لیکن اس کے بجائے اربوں روپے کی لاگت سے تیار شدہ جدید بلڈنگ کو نجی اور عسکری ادارے کے حوالے کرنا صوبے کے عوام اور طلبہ کے ساتھ کھلی زیادتی اور ان کے مستقبل پر کاری ضرب ہے۔مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اس عوامی نوعیت کے سنگین مسئلے پر خاموش نہیں رہے گی اور اس فیصلے کے خلاف بھرپور احتجاج کرے گی۔ رہنماں نے طلبہ تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ اس اہم تعلیمی اور عوامی مسئلے پر کسی بھی قسم کی مصلحت پسندی کا شکار نہ ہوں اور متحد ہو کر صوبے کے تعلیمی اداروں کو عوامی کنٹرول میں رکھنے کے لیے اپنی آواز بلند کریں