Live Updates

طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں نادرا مراکز عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان

دیگر قریبی مراکز پر شہریوں کی اضافی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موبائل رجسٹریشن وین تعینات کردی گئی ہیں؛ نادرا ترجمان

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 29 اگست 2025 12:53

طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں نادرا مراکز عارضی ..
لاہور( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اگست 2025ء ) ملک میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث مختلف علاقوں میں نادرا مراکز عارضی طور پر بند کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں مراکز کی عارضی بندش کا اعلان کیا ہے کیوں کہ صوبہ ان دنوں طوفانی بارشوں اور سیلاب کی لپیٹ میں ہیں جس کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثر ہے، اسی لیے نادرا کی جانب سے بھی شہریوں کے تحفظ کیلئے اہم قدم اٹھاتے ہوئے پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش اور سیلاب کے باعث مراکز کی عارضی بندش کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث جو مراکز عارضی طور پر بند کیے گئے ہیں ان میں وانیکے تارڑ حافظ آباد، جلالپور بھٹیاں، حافظ آباد، 18 ہزاری، جھنگ، احمد نگر، چنیوٹ، مڈھ رانجھا، سرگودھا، کری شریف، گجرات، کوٹلی لوہاراں، سید پور سیالکوٹ، خدمت مرکز سیالکوٹ، دیپالپور اور اوکاڑہ شامل ہیں، ان تمام علاقوں کے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دیگر قریبی مراکز کا رخ کریں جہاں اضافی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے موبائل رجسٹریشن وین تعینات کردی گئی ہیں۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ ملک بھر میں جاری بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دریائے چناب، ستلج اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہور کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے جہاں پارک ویو جیسی پوش سوسائٹی بھی ڈوب چکی ہے کیوں کہ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کی وجہ سے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد، مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے جب کہ وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہاتوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوچکا ہے اور ان کا زمینی رابطہ کٹ چکا ہے، اسی طرح دریائے چناب میں چنیوٹ برج پرپانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلہ آئندہ 48 گھنٹوں تک شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کرلیا گیا۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات