Live Updates

پارک ویو سوسائٹی کے کئی بلاک دریائے راوی کی زد میں آگئے، لوگ مہنگے گھر چھوڑ کر جانے پر مجبور

انتظامیہ کی طرف سے بنائے جانے والے حفاظتی بند توڑ کر رات گئے دریائے راوی کا اوورسیز، پلاٹینیم اور ڈائمنڈ بلاکس میں داخل ہوگیا

Sajid Ali ساجد علی جمعہ 29 اگست 2025 11:24

پارک ویو سوسائٹی کے کئی بلاک دریائے راوی کی زد میں آگئے، لوگ مہنگے گھر ..
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 اگست 2025ء ) صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کا پوش رہائشی علاقے پارک ویو سوسائٹی کے کئی بلاک دریائے راوی کے سیلابی پانی کی زد میں آگئے جس کی وجہ سے لوگ مہنگے گھر چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق پارک ویو سوسائٹی کے اوورسیز، پلاٹینیم اور ڈائمنڈ بلاک سیلابی پانی میں ڈوب چکے ہیں جہاں رہائشی اور کمرشل عمارتیں پانی سے بھر چکی ہیں یہاں رات گئے سوسائٹی کی دیواروں کو توڑتے ہوئے تیزی سے پانی اندر داخل ہوا جس میں دیکھتے ہی دیکھتے شدت آگئی اور مذکورہ بلاکس پانی پانی ہوگئے، اس صورتحال کے پیش نظر رہائشیوں سے کہا گیا کہ مذکورہ علاقوں کو خالی کردیں۔

اس حوالے سے مزید بتایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی طرف سے بنائے جانے والے حفاظتی بند توڑ کر دریائے راوی کا سیلابی پانی پارک ویو سوسائٹی کے اوورسیز، پلاٹینیم اور ڈائمنڈ بلاکس میں داخل ہوا، جس کے باعث یہاں سے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے اطلاعات کیے گئے اور لوگ اپنے انتہائی مہنگے گھر چھوڑ کر جانے پر مجبور ہوئے۔

(جاری ہے)

بتایا جارہا ہے کہ ملک بھر میں جاری بارشوں اور بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کی وجہ سے دریائے چناب، ستلج اور راوی میں اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے، لاہور کے متعدد علاقوں میں سیلابی پانی داخل ہوچکا ہے جہاں دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے جس کی وجہ سے فرخ آباد، عزیز کالونی، امین پارک، افغان کالونی، شفیق آباد، مریدوالا کے علاقے متاثر ہوئے، اس کے علاوہ فیصل آباد میں تاندلیانوالہ کے مقام پردریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافے کے باعث نشیبی علاقوں کے مکینوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی کا عمل جاری ہے ۔

علاوہ ازیں وزیر آباد، قصور، نارووال، حافظ آباد، کمالیہ، منڈی بہاؤالدین، بہاول نگر، سیالکوٹ، سرگودھا، وہاڑی اور پاکپتن سمیت کئی علاقوں کے دیہاتوں میں سیلاب کا پانی داخل ہوچکا ہے اور ان کا زمینی رابطہ کٹ چکا ہے، اسی طرح دریائے چناب میں چنیوٹ برج پرپانی کے بہاؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، ملتان میں دریائے چناب کا خطرناک ریلہ آئندہ 48 گھنٹوں تک شہر کی حدود میں داخل ہونے کا خدشہ ہے، جس کی وجہ سے شہری آبادی کو بچانے کے لیے ہیڈ محمد والا پر بریچ کا فیصلہ کرلیا گیا۔
Live سیلاب کی تباہ کاریاں سے متعلق تازہ ترین معلومات