وزیر اعظم ، چیف سیکرٹری اور سیکرٹری خوراک کیخلاف ہائیکورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کا الزام ،مدعلیان سے 10 ستمبر تک وضاحت طلب

جمعہ 29 اگست 2025 14:25

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 29 اگست2025ء) وزیر اعظم چوہدری انوار الحق، چیف سیکرٹری خوشحال اور سیکرٹری خوراک سہیل اعظم کے خلاف ہائی کورٹ کے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کے الزام میں توہین عدالت کی درخواست دائر، مدعلیان سے 10 ستمبر تک وضاحت طلب، رٹ پٹیشن مظفرآباد فلور اینڈ جنرل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹر خواجہ امتیاز احمد کی جانب سے ایڈووکیٹ خواجہ جنید پنڈت نے دائر کی ہے جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت العالیہ نے مظفرآباد فلور ز اینڈ جنرل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے حوالے سے 16 ستمبر 2024 ؁ء کو کوٹہ الاٹمنٹ کے حوالے سے 45 دن کے اندر 8 فروری 2012 ؁ء کے نوٹیفکیشن کے مطابق عملدرآمد کے احکامات صادر کیے جن پر تاحال علمدرآمد نہیں کیا گیا اور عدالتی احکامات کی صریحاً خلاف ورزی کی گئی، رٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیکرٹریٹ خوراک نے عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیلئے سمری وزیر اعظم کو منظوری کیلئے ارسال کر رکھی ہے جو وزیر اعظم کی ٹیبل پر موجود ہے لیکن دانستہ فائل روک کر پٹیشنر کو ذہنی اذیت اور مالی نقصان پہنچایا جا رہا ہے ، عدالت نے رٹ پٹیشن میں کی گئی استدعا کے مطابق وزیر اعظم چوہدری انوار الحق، چیف سیکرٹری خوشحال خان اور سیکرٹری خوراک سہیل اعظم کو نوٹس جاری کر تے ہوئے حکم دیا ہے کہ 10 ستمبر کو عدالت پیش ہو کر وضاحت دیں کہ عدالتی حکم مجریہ 16 ستمبر 2024 پر عملدرآمد نہ کرنے کی پاداش میں کیوں نہ آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے ، کیس کی سماعت جسٹس ہائی کورٹ جناب خالد رشید چوہدری نے کی،ابتدائی حکم میں عدالت نے مدعلیان کو نوٹس جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ عدالت پیش ہو کر وضاحت کریں کہ کیوں نہ 16 ستمبر 2024 کے عدالتی احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے کی پاداش میں آپ کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے، کیس کی آئندہ سماعت 10 ستمبر کو ہوگی۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق مظفرآباد میں اضافی فلور ملز کے قیام کیلئے کیس کئی سالوں سے زیر کار ہے ، مظفرآباد فلور اینڈ جنرل ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے خواجہ امتیاز احمد ،عبد الماجد خان ،سردار عزیز اور سردار امتیاز عباسی شامل ہیں، مظفرآباد اور مضافات میں معیاری آٹے کی بروقت ترسیل یقینی بنانے کیلئے انڈسٹریل ایریا مظفرآباد میں عمارت تعمیر شدہ ہے جس میں جملہ محکمانہ تصریحات کے مطابق لوازمات بھی پورے کر دیے گئے ہیں ،محکمہ ماحولیات نے این او سی بھی جاری کر رکھا ہے جب کہ سیکرٹریٹ خوراک نے ملز فنکشن کرنے کیلئے حکومت کی جانب سے این او سی کے اجراء اور کوٹے کی الاٹمنٹ کی تحریک بھی کر رکھی ہے ، یہ فائل دو ماہ تک وزیر خوراک اکبر ابراہیم کے ٹیبل پر زیر التواء رہی ، جملہ قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد فائل منظوری کیلئے وزیر اعظم کو ارسال کی گئی لیکن وزیر اعظم نے فلور ملز کے بورڈ آف ڈائریکٹر میں شامل خواجہ امتیاز احمد کے بھائی قائد حزب اختلاف خواجہ فارو ق احمد کو مبینہ طور پر زیر بار کرنے کیلئے منظوری نہ دی اور معاملہ التواء کا شکار کر رکھا ہے ۔

رٹ پٹیشن میں توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی استدعا کے بعد ایوان وزیر اعظم میں مذکورہ فائل کی تلاش شروع ہے ، امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ 10 ستمبر توہین عدالت کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے معاملہ یکسو کر دیا جائے گا۔