لاہور ہائیکورٹ کا واٹر فلٹریشن کے بغیر صنعتی پلانٹس بند کرنے کا حکم

واٹر فلٹریشن کے بغیر چلنے والی صنعتیں آبی آلودگی کا بڑا سبب ہیں اور ان سے خارج ہونے والا آلودہ پانی زیرِ زمین ذخائر کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے، لاہور ہائیکورٹ

جمعہ 7 نومبر 2025 22:29

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 نومبر2025ء) لاہور ہائیکورٹ نے واٹر فلٹریشن پلانٹس کے بغیر چلنے والے صنعتی یونٹس کی بندش کے خلاف دائر درخواست مسترد کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ واٹر فلٹریشن کے بغیر چلنے والی صنعتیں آبی آلودگی کا بڑا سبب ہیں اور ان سے خارج ہونے والا آلودہ پانی زیرِ زمین ذخائر کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔عدالت نے ریمارکس دیے کہ یہی آلودہ پانی مختلف علاقوں میں سبزیوں کے کھیتوں کو دیا جا رہا ہے جو انسانی صحت کیلئے انتہائی خطرناک ہے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ معاملہ صرف آلودہ پانی تک محدود نہیں رہا بلکہ انسانی زندگیوں کے تحفظ تک جا پہنچا ہے، اس لیے ایسے صنعتی یونٹس کو بند کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست لے کر ماحولیاتی ٹربیونل سے رجوع کریں۔

(جاری ہے)

عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ اگر ہائیکورٹ نے اس نوعیت کا فیصلہ کر دیا تو پھر کبھی بھی ایسے پلانٹس کو چلانے کی اجازت نہیں مل سکے گی۔جسٹس شاہد کریم نے کیس کی سماعت کی جبکہ درخواست گزار صنعتی یونٹ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماحولیاتی آلودگی کے نام پر بند کیے گئے صنعتی یونٹس کو دوبارہ کھولنے کا حکم دیا جائے۔عدالت نے دلائل سننے کے بعد درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر مسترد کر دی۔