تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے دل کے امراض میں کمی کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی حکمتِ عملی ناگزیر ہے، ماہرِ امراضِ قلب

Umer Jamshaid عمر جمشید جمعرات 13 اگست 2026 16:04

تمباکو نوشی کے باعث ہونے والے دل کے امراض میں کمی کے لیے سائنسی شواہد ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 اگست2026ء) سینئر ماہرِ امراضِ قلب پروفیسر ڈاکٹر اسد ریاض کچلو کا کہنا ہے کہ اگرچہ تمباکو اور نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا ہی صحت کے لیے بہترین انتخاب ہے، تاہم ایسے بالغ افراد کے لیے جو فوری طور پر تمباکو نوشی چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو پاتے، تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی سے متعلق دستیاب سائنسی شواہد پر بھی سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے

دل اور خون کی شریانوں کی بیماریاں (Cardiovascular Disease)دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی صحتِ عامہ کے بڑے چیلنجز میں شامل ہیں، اور تمباکو نوشی ان بیماریوں کی اہم وجوہات میں شمار ہوتی ہے۔

ماہرینِ صحت کے مطابق اس مسئلے سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے صرف تمباکو نوشی ترک کرنے کی حوصلہ افزائی ہی کافی نہیں، بلکہ ایسے بالغ افراد کے بارے میں بھی سائنسی بنیادوں پر گفتگو جاری رہنی چاہیے جو مختلف وجوہات کی بنا پر تمباکو نوشی چھوڑ نہیں پاتے۔

(جاری ہے)



سینئر ماہرِ امراضِ قلب، پروفیسر ڈاکٹر اسد ریاض کچِلو نے کہتے ہیں کہ تمباکو اور نکوٹین کی تمام اقسام کا استعمال مکمل طور پر ترک کرنا ہی بہترین حل ہے، تاہم ایسے بالغ افراد کے لیے، جو تمباکو نوشی ترک نہیں کر پاتےہیں، تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی (Tobacco Harm Reduction) سے متعلق سائنسی شواہد بھی مسلسل توجہ کے مستحق ہیں۔



پروفیسر ڈاکٹر اسد ریاض کچِلو کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے سب سے مؤثر راستہ یہی ہے کہ تمباکو اور نکوٹین کا استعمال مکمل طور پر ترک کر دیا جائے۔ تاہم یہ حقیقت بھی نظرانداز نہیں کی جا سکتی کہ بعض بالغ افراد فوری طور پر تمباکو نوشی چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ایسے افراد کے حوالے سے تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی (Tobacco Harm Reduction - THR) سے متعلق موجود سائنسی شواہد کا مسلسل جائزہ لینا اور انہیں پالیسی سازی اور صحتِ عامہ کے مباحثے کا حصہ بنانا بھی ضروری ہے۔



ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سگریٹ کا اصل نقصان تمباکو کے جلنے کے عمل (Combustion) سے پیدا ہوتا ہے۔ تمباکو جلنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے دھوئیں میں  7,000 سے زائد کیمیائی مادّے شامل ہوتے ہیں، جن میں سے متعدد زہریلے ہیں۔ یہی مادّے جسم میں داخل ہو کر دل اور خون کی شریانوں کو نقصان پہنچاتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ دل کے دورے، فالج اور دیگر قلبی پیچیدگیوں کے خطرات میں اضافہ کرتے ہیں۔



طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ تمباکو نوشی ترک کرنا ہی صحت کے لیے سب سے محفوظ اور مؤثر راستہ ہے۔ اس کے باوجود انتباہی پیغامات، آگاہی مہمات اور مسلسل ترغیب کے باوجود بہت سے بالغ افراد تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں۔ یہی حقیقت اس امر کی متقاضی ہے کہ اس مسئلے کا جائزہ صرف نظریاتی نہیں بلکہ عملی تناظر میں بھی لیا جائے۔

اسی پس منظر میں دنیا بھر میں ایسے بالغ تمباکو نوش افراد کے حوالے سے تحقیق جاری ہے جو تمباکو نوشی ترک نہیں کر پاتے یا اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتے۔

اس تحقیق کا محور یہ سمجھنا ہے کہ تمباکو نوشی سے ہونے والے نقصانات میں کس حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، کیونکہ سائنسی شواہد یہی بتاتے ہیں کہ سگریٹ سے ہونے والے زیادہ تر نقصانات کی بنیادی وجہ تمباکو کا جلنا اور اس سے پیدا ہونے والے زہریلے کیمیائی مادّے ہیں۔

ماہرینِ صحتِ عامہ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ تمباکو سے ہونے والے نقصانات میں کمی (Tobacco Harm Reduction - THR) کو ہرگز تمباکو نوشی ترک کرنے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے، اور نہ ہی اس کا یہ مطلب لیا جانا چاہیے کہ بغیر دھوئیں والی تمباکو مصنوعات یا نکوٹین پر مشتمل دیگر مصنوعات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

نوجوانوں اور تمباکو نوشی نہ کرنے والے افراد کو ہر صورت تمباکو اور نکوٹین سے دور رکھنا صحتِ عامہ کی بنیادی ترجیح رہنی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے ملک میں، جہاں دل کی بیماریاں پہلے ہی صحتِ عامہ پر نمایاں بوجھ ڈال رہی ہیں، مؤثر حکمتِ عملی کے لیے بیک وقت کئی محاذوں پر کام کرنا ہوگا۔ اس میں تمباکو نوشی کی روک تھام، تمباکو نوشی چھوڑنے میں بہتر معاونت، عوامی آگاہی میں اضافہ، اور ایسے بالغ افراد کے لیے شواہد پر مبنی طریقۂ کار کا مسلسل سائنسی جائزہ شامل ہے جو تمباکو نوشی جاری رکھتے ہیں۔



ماہرین کا کہنا ہے کہ طب کا شعبہ ہمیشہ تحقیق اور سائنسی شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھا ہے، اس لیے تمباکو نوشی سے وابستہ دل کی بیماریوں کے مسئلے کو بھی اسی زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ تمباکو نوشی کا مکمل خاتمہ ہی اصل ہدف ہے، تاہم مسلسل سائنسی تحقیق اور شواہد مستقبل میں ایسی صحتِ عامہ کی حکمتِ عملیوں کی تشکیل میں مدد دے سکتے ہیں جو اُن بالغ افراد میں بیماریوں کے بوجھ کو کم کرنے میں معاون ثابت ہوں جو تمباکو نوشی ترک نہیں کر پاتے۔