پنجاب میں سموگ کا راج، لاہور کا آلودہ ترین شہروں میں دوسرا نمبر رہا

بدھ 12 نومبر 2025 14:36

پنجاب میں سموگ کا راج، لاہور کا آلودہ ترین شہروں میں دوسرا نمبر رہا
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 12 نومبر2025ء) پنجاب کے مختلف شہروں میں آلودگی کے ڈیرے برقرار ہیں، لاہور دنیا کے آلودہ شہروں میں دوسرے نمبر پر رہا ۔عالمی ماحولیاتی ویب سائٹ کے مطابق صوبائی دارالحکومت کا ایئر کوالٹی انڈیکس بدھ کے روز 455تک جا پہنچا، لاہور کے علاقے راوی روڈ کا اے کیو آئی 855، پنجاب یونیورسٹی کے اطراف، 742، ماڈل ٹائون 682اور ساندہ روڈ کا 618ریکارڈ کیا گیا ۔

محکمہ موسمیات کے مطابق شہر کا کم سے کم درجہ حرارت 12جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 26ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ، ہوا میں نمی کا تناسب 65فیصد تک جا پہنچا، ہوا کی رفتار 5کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ۔اس کے علاوہ پنجاب کے دیگر شہروں بہاولپور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 620تک پہنچ گیا ، ملتان میں 571، فیصل آباد 418 اور گوجرانوالہ میں اے کیو آئی 340ریکارڈ کیا گیا ۔

(جاری ہے)

دوسری جانب بھارتی دارالحکومت دہلی دنیا کا آلودہ ترین شہر رہا جہاں اے کیو آئی 761ریکارڈ کیا گیا ۔محکمہ تحفظ ماحول پنجاب نے اپنی اکتوبر 2025یء کی رپورٹ میں بتایا ہے کہ انسدادِ اسموگ کے لیے حکومتی اداروں اور عوامی سطح پر کیے گئے اقدامات سے مجموعی صورتحال میں معمولی بہتری آئی ہے۔رپورٹ کے مطابق ای پی اے کی ٹیموں نے اکتوبر کے دوران 28 ہزار 675معائنے مکمل کیے، جن میں آلودگی پھیلانے والے کارخانوں اور برک کلنز کے خلاف کارروائیاں شامل تھیں۔

محکمہ کے مطابق غیر قانونی یا ماحولیاتی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے یونٹس کے خلاف 707نوٹسز، 381ڈیمولیشنز، 521سیلنگز، 567ایف آئی آرز درج کی گئیں اور مجموعی طور پر 5کروڑ 88لاکھ روپے کے جرمانے عائد کیے گئے۔ پلاسٹک فری پنجاب مہم کے تحت 28.8ٹن پلاسٹک بیگز ضبط کیے گئے جبکہ صنعتی علاقوں میں 32مسٹ سپرنکلنگ سسٹمز اور 79 واٹر ری سائیکلنگ پلانٹس نصب کیے گئے ہیں۔

تعلیمی اداروں میں ماحولیاتی آگاہی کو فروغ دینے کے لیے 2070اسکولوں میں ویسٹ سیگریگیشن ایس او پیز پر عمل درآمد کروایا گیا۔ اسی طرح 163واٹر سیمپلنگ، 112فیول کوالٹی ٹیسٹ اور 89اسٹیک ایمیشن چیک کیے گئے تاکہ پانی اور ہوا دونوں کے معیار کی مسلسل نگرانی کی جا سکے۔ٹرانسپورٹ سیکٹر میں 763ہیوی گاڑیوں کا معائنہ اور 7042ای ٹی ایس ٹیسٹنگز مکمل کی گئیں، جس سے گاڑیوں کے دھوئیں سے اخراج میں کمی دیکھی گئی ہے۔

عوامی سطح پر بھی ماحولیاتی شعور میں اضافہ ہوا ہے اور 21ہزار 983 شہریوں نے پلاسٹک فری پلیجز پر دستخط کیے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے متعلقہ محکموں کو ہدایت دی ہے کہ اسموگ کے مستقل تدارک کے لیے فیلڈ آپریشنز میں جدید ٹیکنالوجی، ڈرون مانیٹرنگ اور ڈیٹا بیس رپورٹنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کیا جائے۔سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کے مطابق حکومت کی ماحولیاتی حکمت عملی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک جامع نظام کی عکاسی کرتی ہے، جس میں عوامی تعاون، صنعتی نظم و ضبط اور تعلیمی آگاہی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کو سموگ فری بنانا صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک اجتماعی تحریک ہے۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتی آلودگی شہریوں کے لئے شدید خطرہ بن چکی ہے، شہری غیر ضروری سفر سے گریز کریں، ماسک کا استعمال یقینی بنائیں اور صبح کے اوقات میں کھلی فضا میں سرگرمیوں سے پرہیز کریں۔