ساحلی علاقوں میں نئی گہرے پانی کی بندرگاہوں کی ترقی میں معاشی نمو اور مضبوط ماحولیاتی تحفظ کے درمیان توازن ناگزیر ہے،وفاقی وزیر
صنعتی سرگرمیوں میں اضافے، علاقائی ٹرانزٹ تجارت اور بڑھتی ہوئی شپنگ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے نئی بندرگاہیں وقت کی اہم ضرورت ہیں، جنید انوار
بدھ 31 دسمبر 2025 17:55
(جاری ہے)
جنید انوار چوہدری نے تمام متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی مفاد میں آئندہ ایک صدی کی بحری توسیع اور معاشی تبدیلی کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنائیں۔ اجلاس میں وزارتِ بحری امور کے ٹیکنیکل ایڈوائزر جواد اختر سمیت 10 متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
کمیٹی نے وفاقی وزیر کو اپنی کارکردگی، ممکنہ مقامات کے انتخاب کے عوامل، مطالعاتی عمل اور طریقہ کار پر بریفنگ دی۔ شرکاء نے تین مجوزہ بندرگاہوں (پورٹ 1، پورٹ 2 اور پورٹ 3) کیلئے تکنیکی فزیبلٹی پر مبنی جائزہ فریم ورک پیش کیا، جس میں قدرتی گہرائی، سمندری رسائی اور ساحلی حالات کا تجزیہ شامل تھا تاکہ ہر مقام کی عملی افادیت اور طویل المدتی پائیداری کا تعین کیا جا سکے۔فریم ورک میں زمین کی دستیابی، مستقبل میں توسیع کی گنجائش اور ماحولیاتی حساسیت کو بھی شامل کیا گیا۔ اس ضمن میں مینگرووز، محفوظ علاقوں کی موجودگی اور مقامی آبادی و روزگار پر ممکنہ اثرات جیسے عوامل کو خصوصی اہمیت دی گئی تاکہ ماحول دوست ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے علاوہ سڑک، ریل اور لاجسٹکس نیٹ ورک کے ذریعے اندرونِ ملک رابطہ کاری، ہر بندرگاہ کی مجموعی معاشی و تزویراتی اہمیت، تجارت میں سہولت، علاقائی ترقی اور متبادل انتظامات کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ ماحولیاتی، تکنیکی، سکیورٹی اور ضابطہ جاتی خطرات اور رکاوٹوں کی نشاندہی کی گئی۔ کمیٹی وفاقی وزیر کے سو سالہ وڑن 2047-2147 کے تحت اس منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے، جس کے تحت ساحلی علاقوں میں اسٹریٹجک مقامات پر تین سے چار نئی گہرے پانی کی بندرگاہیں قائم کی جائیں گی، جن میں جدید کارگو ہینڈلنگ سہولیات، گرین انرجی کا استعمال اور ڈیجیٹل پورٹ مینجمنٹ سسٹمز شامل ہوں گے۔ کمیٹی نے جامع فزیبلٹی رپورٹ پر بھی کام شروع کر دیا ہے، جس میں تکنیکی نتائج، ہائیڈروگرافک نقشے، سیٹلائٹ ڈیٹا اور سرمایہ کاری سے متعلق سفارشات شامل ہوں گی، جو جلد وزارتِ بحری امور کو پیش کی جائے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان کی ساحلی پٹی سندھ کے سرکریک سے بلوچستان کے جیوانی تک ایک ہزار کلومیٹر سے زائد پر محیط ہے، جبکہ ملک کا خصوصی معاشی زون 2 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر اور براعظمی شیلف تقریباً 50 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ ماہرین کے مطابق 2030 سے 2035 کے درمیان پاکستان کی جی ڈی پی ایک ٹریلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں بحری تجارت اور متعلقہ صنعتوں میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ اندازوں کے مطابق کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر پورٹ 2035 سے 2045 کے درمیان اپنی مکمل استعداد تک پہنچ جائیں گی۔مزید قومی خبریں
-
ایف بی آر کا تاجرآسان کیو آر گرین پلیٹ کے اجرا کا آغاز
-
میئر کراچی کا اولڈ سٹی ایریا کا دورہ، ترقیاتی کاموں کا جائزہ
-
لاہور میں پیشہ ور گداگروں کے خلاف گرینڈ آپریشن، 156 بھکاری گرفتار
-
ساہیوال،سابق خاوند سمیت 12 افراد پر 9 سالہ بچی کے اغوا اور فائرنگ کا الزام، 4 گرفتار
-
پاکستان پیپلزپارٹی کی مرکزی ترجمان شازیہ مری کی سینئر صحافی مائرہ ہاشمی کے برادر نسبتی میاں شہزاد علی کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
-
بہن کو طلاق دلوانے کے لیے بہنوئی کا اغوا، قصور میں پولیس کا آپریشن، 3 اغوا کار گرفتار
-
صوبے کے مختلف شہروں میں مرحلہ وار نئی الیکٹرک بسیں چلائی جائیں گی، شرجیل انعام میمن
-
گورنرفیصل کریم کنڈی سے پیسکو چیف اور ہیڈ آف گرڈ اسٹیشن کی ملاقات
-
پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین حافظ محمد طاہر محمود اشرفی کا مدارس کے بینک اکاؤنٹس کا مسئلہ حل ہونے پر اظہارِ تشکر
-
وزیراطلاعات کی تاج محمد آفریدی اور الحاج جنت شیر آفریدی کے انتقال پر تعزیت کیلئے شاہ جی گل آفریدی کی رہائش گاہ آمد
-
ایم ڈی کیٹ میں نمبرز بڑھوانے کا جھانسہ دینے والے گروہ کے مرکزی ملزمان گرفتار
-
علیمہ خان ، ڈرائیور کی نظر بندی کیخلاف درخواست (کل) تک ملتوی
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.