بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ تھم گیا، شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج

سڑکیں بحال کرنے کا کام شروع، درجنوں افراد ریسکیو‘مسافروں اور سیاحوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی برفباری کے بعد نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی 9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ایبٹ آباد میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا

ہفتہ 24 جنوری 2026 17:37

بالائی علاقوں میں برفباری کا سلسلہ تھم گیا، شدید برفباری سے نظام زندگی ..
لاہور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، مظفر آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 24 جنوری2026ء) ملک کے مختلف علاقوں میں شدید برفباری سے نظام زندگی مفلوج ہوگیا، بالائی علاقوں میں کئی کئی فٹ برف پڑچکی جس کے باعث رابطہ سڑکیں بند ہوگئیں تاہم پاک فوج اورضلعی انتظامی اداروں کی بروقت کارروائیوں سے درجنوں افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔ملک کے بیشتر بالائی علاقوں میں برف باری کا سلسلہ تھمنے لگا ہے تاہم مزید برف باری کی پیشگوئی بھی کی گئی ہے، برف باری کا سلسلہ تھمنے پر راستوں سے برف ہٹانے کا کام تیز کر دیا گیا ، رابطہ سڑکیں بحال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے، مسافروں اور سیاحوں کے لیے امدادی سرگرمیوں میں تیزی لائی جا رہی ہے۔

آزاد جموں و کشمیر میں بارش اور برفباری کا سلسلہ تھم گیا مگر وادی لیپہ ، بالائی نیلم، سدھن گلی ، پیر چناسی ، محمود گلی، لسڈنہ بیشتر بالائی علاقوں کی شاہراہیں برفباری سے بند ہیں، بالائی علاقوں میں نظام زندگی متاثر ہے، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا، مظفرآباد میں درجہ حرارت منفی سات پر گر گیا۔

(جاری ہے)

شدید برفباری کے باعث ضلع حویلی کی حدود میں ایمبولینس سمیت 25 کے قریب گاڑیاں پھنس گئیں۔

پاک فوج نے 32 مسافروں کو ریسکیو کرلیا۔ایمبولینس میں موجود 2 میتیں بھی نکال لی گئیں۔ گاڑیوں میں 100کے قریب افراد سوار تھے۔مظفرآباد میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، وادی نیلم میں شدید برف باری سے 3 مکانات گر گئے۔برف باری اور لینڈ سلائیڈنگ سے اہم شاہراہیں بند ہوگئیں، بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔وادی کاغان میں برف باری سے رابطہ سڑکیں بند ہونے کے بعد انتظامیہ نے سیاحوں کا داخلہ بند کردیا، سیاحوں کو بالا کوٹ میں روک لیا گیا، دیربالا،کمراٹ، لواری ٹنل، باجوڑ میں بھی برف باری سے راستے بند ہیں۔

ملاکنڈ میں کئی سالوں کے بعد برف باری ہوئی، کچھ مقامات پر درخت سڑکوں پر گر گئے۔خیبر میں برفباری کے باعث پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کرنے کا عمل دن بھرجاری رہا۔ ڈپٹی کمشنر خیبر کے مطابق پھنسے ہوئے افراد کو پائندہ چینہ اسکول اور ہاسٹل منتقل کر دیا گیا۔ شانگلہ ٹاپ میں22 گھنٹوں سے برف میں پھنسے چار سیاحوں کو ریسکیو کرلیا گیا۔ادھرچلاس اور اپرکوہستان میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہِ قراقرم مختلف مقامات پر بند رہی جس کے باعث سیکڑوں مسافر اور مال بردار گاڑیاں پھنسی رہیں۔

استور میں شدید برف باری سے نظام زندگی درہم برہم ہونے کی وجہ سے ملک بھر سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، راما میڈوز دیوسائی، نانگا پربت اور برزل ٹاپ میں5 سی6 فٹ تک برف پڑ ی، مشرف چوک میں برفانی تودہ گرنے سے روڈ بلاک رہا۔ہنزہ اور نگر میں برفباری سے رابطہ سڑک بندرہی، وادی چیپورسن میں خیموں میں مقیم زلزلہ متاثرین کو سخت سردی میں مشکلات کا سامنا رہا۔نتھیاگلی میں تین فٹ سے زائد جبکہ ٹھنڈیانی میں چارفٹ تک برف پڑی، جس کے باعث معمولات زندگی شدید متاثررہے، برفباری کے بعد نتھیاگلی میں درجہ حرارت منفی9 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ ایبٹ آباد میں منفی 4 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔