صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر بھٹو کی پھانسی قانون کے منافی تھی، جسٹس محمد علی مظہر

بھٹو ٹرائل آ ئین کے تحت منصفانہ نہیں تھا، شفافیت اور قانون کے تقاضے پورے نہ ہوئے، جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں؛ بھٹو پھانسی ریفرنس پر تفصیلی نوٹ

Sajid Ali ساجد علی اتوار 1 فروری 2026 16:00

صرف وعدہ معاف گواہ کے بیان پر بھٹو کی پھانسی قانون کے منافی تھی، جسٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 فروری2026ء) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس محمد علی مظہر نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے صدارتی ریفرنس پر اپنا 24 صفحات پر مشتمل تفصیلی نوٹ جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق اپنے تفصیلی نوٹ میں جسٹس محمد علی مظہر نے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ کے ماضی میں دیئے انٹرویوز کا بھی حوالہ دیا، انہوں نے لکھا کہ سابق چیف جسٹس نے خود اعتراف کیا تھا بھٹو کیس کا فیصلہ دباؤکے تحت کیا گیا، سابق چیف جسٹس کا یہ اعتراف کسی بھی عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لیے اس بات میں شک کی گنجائش نہیں چھوڑتا کہ یہ ایک عدالتی قتل تھا اور ایسا اعتراف ایک جج کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اگر جج کسی فریق یا وکیل سے ناراض ہو جائے یا اپنا صبر کھو دے تو اس کے لیے قانون کے مطابق انصاف کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، بھٹو کیس کی سماعت کرنے والے جج مبینہ طور پر اپیل کی سماعت کے دوران غصے میں تھے جس سے آزادانہ ذہن کے ساتھ فیصلے کا امکان ختم ہوگیا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کا ٹرائل آئین کے آرٹیکل 4 اور 9 کے تحت منصفانہ ٹرائل کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا، ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف ٹرائل میں شفافیت اور قانون کے مقررہ طریقہ کار کے تقاضے پورے نہیں کیے گئے، محض ایک وعدہ معاف گواہ کے بیان پر سزائے موت سنانا قانون اور انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی تھا، جلد بازی، غصے یا تعصب میں کیے گئے فیصلے ناصرف ملکی قانون بلکہ اسلامی اصولوں کے بھی منافی ہیں۔

(جاری ہے)

جسٹس محمد علی مظہر لکھتے ہیں کہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے ٹرائل کے دوران ججوں کی ذاتی جانبداری اور پہلے سے قائم شدہ ذہن نے منصفانہ فیصلے کی بنیاد کو متاثر کیا، پولیس کی جانب سے بند کیے گئے کیس کو مارشل لاء دور میں بغیر کسی قانونی جواز کے دوبارہ کھولا گیا، کیس کو سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ منتقل کرنے کا فیصلہ ملزمان کو نوٹس دیے بغیر اور قانونی تقاضے پورے کیے بغیر سرسری انداز میں کیا گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے ٹرائل کے دوران بنچ کے سربراہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا جسے تسلیم نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے خلاف تھا، سپریم کورٹ کا مشاورتی دائرہ اختیار ریاست کے تمام اداروں کے لیے ایک وزنی اور اہم قانونی حیثیت رکھتا ہے، ٹرائل کے دوران استعمال کیے گئے سخت جملوں اور طنزیہ ریمارکس سے عدالتی وقار اور غیر جانبداری متاثر ہوئی۔

سپریم کورٹ جج کے نوٹ میں کہا گیا ہے کہ ججوں کی جانبداری نے انہیں اس قابل نہیں چھوڑا تھا کہ وہ اس اہم کیس میں آزادانہ اور منصفانہ فیصلہ کرسکیں، میرے غور و فکر میں ایک حل طلب سوال یہ ہے کہ توبہ کے اصول سے متعلق سوال اس عدالت نے کیوں فریم کیا، یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ غیر منصفانہ اور جانبدار ٹرائل پر کس نے یا کس کو توبہ کرنی تھی؟ کیا وہ مرحوم ارواح توبہ کے لیے مخاطب تھیں جنہوں نے ہائی کورٹ میں مقدمہ سنا تھا؟ یا وہ ججز توبہ کے ذمہ دار تھے جنہوں نے اپیل اور نظرِثانی کی سماعت کی تھی؟ وہ بنچ توبہ کا مخاطب تھا جس نے سوال کو قابلِ سماعت سمجھا اور فریم کیا؟ یا وہ بنچ ارکان توبہ کے زمرے میں آتے ہیں جنہوں نے ریفرنس دائر ہونے کے برسوں بعد اپنی رائے دی؟ یہ رائے اگرچہ واضح الفاظ میں ندامت کا اظہار نہیں کرتی تاہم کسی حد تک پشیمانی کو ظاہر کرتی ہے۔