Live Updates

حکومت کو وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے تسلی بخش جوابات نہ دے سکنے کی وجہ سے سبکی کا سامنا

چیئر کی بار بار کی رولنگ کے باوجود بیورو کریسی نے ایوان کی کارروائی کے دوران اپنی موجودگی کو یقینی نہ بنایا، اجلاس آج تک ملتوی

پیر 2 فروری 2026 19:55

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 فروری2026ء) پنجاب اسمبلی میں گزشتہ روز بھی حکومت کو وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری کی جانب سے تسلی بخش جوابات نہ دے سکنے کی وجہ سے سبکی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ چیئر کی بار بار کی رولنگ کے باوجود بیورو کریسی نے ایوان کی کارروائی کے دوران اپنی موجودگی کو یقینی نہ بنایا ۔اراکین اسمبلی نے کڑی تنقید کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے پارلیمانی سیکرٹریز لگائے جائیں جو کام کر سکیں ،ایوان کا وقت ضائع نہ کیا جائے۔

پنجاب اسمبلی کا اجلاس گزشتہ روز بھی مقررہ وقت کی بجائے 2گھنٹہ17 منٹ کی تاخیر سے پینل آف چیئر مین راجہ شوکت عزیزکی صدارت میں شروع ہوا۔اجلاس میں بلوچستان میں دہشتگردی کے واقعے میں شہید ہونے والوں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

(جاری ہے)

ایوان میں محکمہ اوقاف و مذہبی امور سے متعلق سوالات کے جوابات دئیے گئے ۔ حکومتی رکن امجد علی جاوید کے محکمے کی اراضی پر قبضے سے متعلق سوال کاپارلیمانی سیکرٹری ملک وحید تسلی بخش جواب نہ دے سکے جس کے باعث پینل آف چیئر مین نے سوال متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

امجدعلی جاوید نے انکشاف کیا کہ اربوں کی جائیداد پر لوگ بغیر کرائے کے قابض ہیں،آج تک کوئی موثر کارروائی نہیں کی گئی۔اپوزیشن رکن شعیب میر نے کہا کہ پارلیمانی سیکرٹری نے پرچی دیکھ کر ہی جواب دینے ہیں تو اس ایوان کا وقت ضائع نہ کریں،عوام کا پیسہ ضائع کیا جا رہا ہے،اگر بغیر تیاری کے آنا ہوتا ہے تو گیلری میں بیٹھے بابوئوں کو بھی نہ بلایا کریں،یہ بابو ادھر وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے دفاتر میں بیٹھ کر عوام کی ہی سن لیں۔

پوسٹ بجٹ پر بحث گزشتہ روز بھی جاری رہی جس میں حصہ لیتے ہوئے اپوزیشن رکن خالد نثار نے کہا کہ آئی ایم ایف نے کرپشن کے حوالے سے جو رپورٹ دی تھی وہ آج لگتا ہے سچ تھی، ایوان میں پیش کی جانے والی بجٹ رپورٹ میں صرف اربوں کا ذکر ہے تفصیلات کوئی نہیں، اس ایوان میں بتایا جانا چاہیے تھا کتنے پیسے کہاں خرچ ہوئے ہیں، اس رپورٹ میں صرف یہ لکھا ہے اتنے ارب اس کو دئیے اتنے ارب اس کو دئیے ۔

بجٹ پر بحث کے دوران متعلقہ وزیر یا پارلیمانی سیکرٹری اور سرکاری حکام موجود نہ تھے۔ اپوزیشن رکن احمر بھٹی نے کہا کہ بجٹ بحث کا کیا فائدہ جب متعلقہ حکام ہی ایوان میں موجود نہیں ہیں ہم کس کو سنا رہے ہیں ۔سیکرٹری خزانہ یا سپیشل سیکرٹری کو موجود ہونا چاہیے۔اس ایوان میں 3مرتبہ ڈپٹی سپیکر نے رولنگ دی کے یا سیکرٹری یا ایوان میں سپیشل سیکرٹری موجود ہو گا۔

پینل آف چیئر پرسن راجہ شوکت عزیز نے کہا کہ وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کی طبیعت ناساز ہے اس لئے وہ ایوان میں نہیں آ رہے۔احمر بھٹی نے کہا کہ وزیر صاحب بیمار ہیں مگر کیا سیکرٹری اور سپیشل سیکرٹری بھی بیمار ہیں ۔جس پر پینل آف چیئر پرسن نے کہا کہ سیکرٹری یاں سپیشل سیکرٹری کو ایوان میں بلایا جائے۔رکن اسمبلی خالد جاوید آرائیں نے انکشاف کیا کہ ہمارے علاقے میں ستھرا پنجاب کے ملازمین کی تنخواہ 37ہزار روپے مقرر ہے لیکن ملازمین کو 25ہزار ملتا ہے اس کا آڈٹ کرایا جائے۔ایجنڈا مکمل ہونے پر پینل آف چیئر پرسن راجہ شوکت عزیز نے اجلاس آج بروز منگل صبح گیارہ بجے تک ملتوی کردیا۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات