نیپرا اگر سولرصارفین سے26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدتا ہے تو عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا ہے
سولرصارفین کی پیداواری لاگت صرف 5 روپے ہے، ساڑھے3 کروڑ میں سے صرف ساڑھے4 لاکھ نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کا بنیادی کام بجلی کی قیمتوں میں غیرضروری اضافہ روکنا ہے۔ اویس لغاری
ثنااللہ ناگرہ
بدھ 11 فروری 2026
23:07
(جاری ہے)
بجلی کی چوری کم کرنا اور ریکوری بہتر کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہم نے دوسرے اقدامات نہیں اٹھانے۔
حکومت نئے آئی پی پیز اور نئے پلانٹ کی خریدوفروخت نہیں کرے گی، بلکہ لوگ آپس میں بجلی کی خریدوفروخت کریں گے۔ سولر نیٹ میٹرنک کیوں ختم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔سولر نیٹ میٹرنگ سے متعلق ہرفورم پوری بات ہوئی ۔ سولر کنزیومرزصارفین کا جنہوں نے آج تک 6ہزار میگاواٹ بجلی لگائی۔بجلی مہنگی سے خود کو بچانے کیلئے سولر سسٹم لگایا۔وہ بجلی بناتے ہیں اور خود استعمال کرتے ہیں، حکومت کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے، لیکن وافر بجلی کن ریٹس پر خریدیں ، ہمارا اس سے تعلق ہے، سولرصارفین سے ہم 27روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدتے ہیں، اور ان کی پیداواری لاگت صرف 5روپے فی یونٹ ہے، حکومت آئی پی پیز اور دیگر سے 8روپے 31پیسے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خرید رہی ہے۔بجلی فی یونٹ 27روپے خریدنے اور سات سال کیلئے کانٹریکٹ تھا، لیکن نیٹ میٹرنگ کانٹریکٹ میں شامل نہیں ہے، سولر نیٹ میٹر صارفین 4لاکھ 60 ہزار ہیں، جبکہ کل صارفین 3کروڑ 50لاکھ سے زیادہ ہیں۔ نیوز ایجنسی کے مطابق وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں تبدیلیاں صارفین کے مفاد میں ہیں۔ سینیٹ میں سولر نیٹ میٹرنگ ریگولیشن میں حالیہ تبدیلیوں کا دفاع کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ یہ اقدامات پالیسی کی بجائے ریگولیٹری نوعیت کے ہیں ،ان کا مقصد بجلی صارفین پر اضافی مالی بوجھ سے بچانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا کا بنیادی کام صارفین کے مفاد کا تحفظ کرنا اور بجلی کی قیمتوں میں غیر ضروری اضافہ روکنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیپرا نے صارفین کیساتھ پہلے سے طے شدہ کسی شق میں تبدیلی نہیں کی ،موجودہ سات سالہ نیٹ میٹرڈ کنٹریکٹس برقرار ہیں۔اویس لغاری نے کہا کہ پاکستان سولر ایسوسی ایشن نے حکومت کے اقدامات کی حمایت کی ہے اور اس کے باوجود سولر پاور جنریشن میں 8,000 میگاواٹ اضافہ متوقع ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2018-22 کے دوران بجلی کی بلند قیمتوں کی بنیادی وجہ روپے کی تیز شرحِ کمی تھی جس کے اثرات سے موجودہ حکومت نمٹ رہی ہے۔ نیٹ میٹرنگ کا طریقہ کار وفاقی کابینہ نے منظور کیا اور پاکستان نے اپنی پاور مکس میں 55 فیصد صاف توانائی حاصل کرنے کا ہدف حاصل کر لیا ہے۔وزیر توانائی نے کہا کہ فارن آئل کے استعمال کو تقریبا ختم کر دیا گیا ہے اور بین الاقوامی اداروں نے حکومت شہباز شریف کے پاور سیکٹر اصلاحات کی تصدیق کی ہے، آزاد پاور پروڈیوسرز کے معاملات میں حکومت نے معاہدے جائزے اور تقرریاں میرٹ کی بنیاد پر کیں، اور اثر و رسوخ رکھنے والے گروپس کے دبا میں نہیں آئی۔صارفین کے ڈیٹا کے حوالے سے وزیر نے بتایا کہ 34.5ملین بجلی صارفین میں سے صرف 466,000 نیٹ میٹرنگ صارفین ہیں، نیپرا کو 26 روپے فی یونٹ پر بجلی خریدنے کی اجازت دینے سے عام صارفین پر سالانہ 550 ارب روپے کا بوجھ پڑتا۔ اویس لغاری نے تصدیق کی کہ نیپرا کی منظور شدہ شرحوں کے تحت نئے صارفین اپنی سرمایہ کاری تین سال میں واپس حاصل کر سکتے ہیں، اگر ریگولیشنز میں اصلاح نہ کی جاتی تو عام صارفین کے لیے فی یونٹ 5 روپے کا اضافی بوجھ پیدا ہوتا۔مزید اہم خبریں
-
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا عمران خان اور اہلیہ بشریٰ بی بی کی اہلِخانہ اور وکلاءسے غیرمشروط ملاقات کرانے کا مطالبہ
-
حوثیوں کی ناکہ بندی کے باوجود پاکستانی تیل بردار جہاز بحفاظت باب المندب عبور کرگئے
-
چین سے تجارتی تعلقات بند کر دیں آپ کی معیشت ٹھیک ہو جائے گی، شبر زیدی
-
پاکستان کشمیریوں کی شناخت پر حملہ کبھی تسلیم نہیں کرے گا، مریم نواز
-
نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار کااردن پہنچنے پر پرتپاک استقبال
-
پاکستان اورامریکا کا دہشتگردی کیخلاف تعاون مزید مضبوط بنانے پر اتفاق
-
پی ٹی آئی کی رہنما علیمہ خان کا دورہ میانوالی سے مجموعی طور پر 17کارکنان گرفتار
-
ایران جنگ میں ٹرمپ کی دھمکیاں جاری، مگر امن کی امید باقی
-
ایئرکنڈیشن صحیح نہیں چل رہا، سہیل آفریدی کے ماتھے پر پسینہ آنے کی وجہ سے الیکٹریشن کو نوکری سے فارغ
-
جولائی میں لیتھیم بیٹریوں کی درآمدات 88 ملین ڈالر کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں
-
2019 کا بھارتی اقدام سلامتی کونسل کی قراردادوں ،کشمیری عوام کی امنگوں پر سنگین حملہ تھا‘ بلاول بھٹو
-
جموں و کشمیر کے تنازعہ کا منصفانہ اور پُرامن حل پاکستان کی پالیسی کا بنیادی ستون ہے، شزا فاطمہ خواجہ
UrduPoint Network is the largest independent digital media house from Pakistan, catering the needs of its users since year 1997. We provide breaking news, Pakistani news, International news, Business news, Sports news, Urdu news and Live Urdu News
© 1997-2026, UrduPoint Network
All rights of the publication are reserved by UrduPoint.com. Reproduction without proper consent is not allowed.