خواتین یونیورسٹی میں تشدد پرمبنی انتہاپسندی کی روک تھام کےعالمی دن پرسیمینارکاانعقاد

جمعرات 12 فروری 2026 17:14

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 فروری2026ء) خواتین یونیورسٹی میں تشدد پر مبنی انتہاپسندی کی روک تھام کے عالمی دن کے موقع پرایک خصوصی آگاہی پروگرام کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد نوجوان نسل میں قیامِ امن،برداشت اوربین المذاہب ہم آہنگی کے شعورکواجاگرکرنا تھا۔ترجمان کےمطابق یہ پروگرام ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز(DSA)کی زیرنگرانی شعبہ ماس کمیونیکیشن، شعبہ پولیٹیکل سائنس،شعبہ انٹرنیشنل ریلیشنزاورشعبہ ہسٹری اینڈ پاکستان اسٹڈ یز کے اشتراک سےمنعقد ہوا۔

تقریب کی کوآرڈینیشن ڈاکٹراسماء اکبر،چیئرپرسن شعبہ پولیٹیکل سائنس نے بطورفوکل پرسن انجام دی۔وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرکلثوم پراچہ تقریب کی سرپرستِ اعلیٰ تھیں جبکہ ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر ملتان جعفر بخاری اور سب انسپکٹر بشریٰ احمد مہمانانِ خصوصی کے طور پر شریک ہوئیں۔

(جاری ہے)

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلثوم پراچہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ انتہاپسندی معاشرے کی جڑوں کو کمزور کرتی ہے، اس لیے تعلیم، مکالمہ اور رواداری کے ذریعے اس کا سدباب ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ جامعات نوجوانوں میں تنقیدی سوچ اورمثبت رویوں کوفروغ دے کرمعاشرتی اصلاح میں اہم کرد ار ادا کرتی ہیں۔ڈی ایس پی جعفر بخاری نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے انتہاپسندی کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات کررہے ہیں تاہم نوجوانوں کا ذمہ دارانہ کردار بھی ضروری ہے۔ سب انسپکٹر بشریٰ احمد نے طالبات پرزوردیا کہ وہ امن کی سفیر بنیں اوربرداشت و باہمی احترام کوفروغ دیں۔تقریب کےاختتام پرملکی سلامتی،استحکام اورہم آہنگی کے لیےدعا کی گئی اوراس عزم کا اظہارکیا گیا کہ ایسی سرگر میاں آئندہ بھی جاری رہیں گی۔