لیاری کی بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ

جمعرات 19 فروری 2026 12:36

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 19 فروری2026ء) بے نظیر بھٹو شہید یونیورسٹی لیاری نے یونیورسٹی کے بعض شعبوں میں ایم فل، پی ایچ ڈی جبکہ نرسنگ اور ڈی پی ٹی(ڈاکٹریٹ آف فزیوتھراپی) پروگرام شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اس پروگرام کی ایچ ای سی سے آئندہ چند روز میں این او سی متوقع ہے جبکہ یونیورسٹی کے بجٹ کی منظوری کے لئے 15 برس کے بعد اب سینیٹ کا اجلاس بلایا گیا ہے جو بدھ کو ہوگا۔

یہ اجلاس 15 سال سے نہیں ہوا تھا اور یونیورسٹی کا بجٹ بغیر کسی منظوری کے استعمال ہورہا تھا۔لیاری یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر حسین مہدی کے مطابق آئی ٹی کے شعبے میں ایم فل پروگرام ،بزنس کے شعبہ میں پی ایچ ڈی جبکہ انگریزی اور ایجوکیشن کے شعبوں میں ایم فل/ پی ایچ ڈی شروع کرنے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔

(جاری ہے)

انھوں نے بتایا کہ نرسنگ اور ڈی پی ٹی کے شعبوں میں قیں او سی موصول ہوتے ہی متعلقہ ایکریڈیشن کونسل کو معائنے کی دعوت دی جائے گی اور آئندہ تعلیمی سیشن سے مذکورہ شعبوں میں داخلے شروع کردیں گے۔

ڈاکٹر حسین مہدی کے مطابق بدھ کو سینیٹ کے اجلاس کی صدارت صوبائی وزیر برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز اسماعیل راہو کریں گے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں جاری اصلاحات، تعلیمی بہتری اور ترقیاتی اقدامات بعض مفاد پرست عناصر کو ناگوار گزر رہے ہیں جس کے باعث منفی اور گمراہ کن پروپیگنڈا اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاہم حقیقت یہ ہے کہ جامعہ مسلسل بہتری اور ادارہ جاتی استحکام کی جانب پیش رفت کر رہی ہیگزشتہ ایک سال کے دوران جامعہ میں پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر اور لیکچرار کی تقرریاں عمل میں لائی گئیں جس سے تدریسی اور تحقیقی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی ہیں۔

قبل ازیں متعدد شعبہ جات میں پروفیسرز اور ڈین جیسے اہم عہدے خالی تھے اور بعض شعبے مستقل قیادت کے بغیر کام کر رہے تھے۔وائس چانسلر نے کہا کہ انتظامی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے سینڈیکیٹ کا باقاعدہ قیام عمل میں لایا گیا ہے۔مزید برآں، یونیورسٹی نے حالیہ عرصے میں بیس سے زائد معروف کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے ہیں تاکہ جامعہ کا معیار بلند اور طلبہ کو عملی تربیت، انٹرن شپ اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم ہوں۔اسی سلسلے میں رجسٹرار کی تقرری کے لیے باقاعدہ اور قانونی اشتہار اردو، سندھی اور انگریزی اخبارات میں شائع کیا گیا جس کی منظوری سینڈیکیٹ سے حاصل کی گئی تھی تاہم چند عناصر کی جانب سے اس کو غلط رنگ دینے کی کوشش بھی کی گئی۔