عمران خان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور پاکستان کی نیک نامی کیلئے جلسہ ملتوی کردیا

عمران خان کا پیغام موصول ہوا کہ موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو ملنے والی پذیرائی باعثِ مسرت ہے، ہمیشہ مؤقف رہا کہ پاکستان کسی بھی پرائی جنگ کا حصہ نہ بنے بلکہ امن اور مذاکرات کو ترجیح دے۔ وزیراعلیٰ محمد سُہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعرات 9 اپریل 2026 19:35

عمران خان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور ..
پشاور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔ 09 اپریل 2026ء ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی اور پاکستان کی نیک نامی کیلئے جلسہ ملتوی کردیا۔ انہوں نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ آج کی پریس کانفرنس خصوصی طور پر  عمران خان کے اُس پیغام کے حوالے سے ہے جو کل اڈیالہ جیل سے موصول ہوا۔

موجودہ علاقائی اور عالمی حالات میں پاکستان کا کردار اور اسے ملنے والی پذیرائی ہم سب کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ یہ وہی مؤقف ہے جو عمران خان 2002 سے پیش کرتے آ رہے ہیں کہ پاکستان ہمیشہ امن کے لیے کوشش کرے اور معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔آج ہم نے دیکھا کہ اسی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

پاکستان تحریک انصاف اور خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کا بھی ہمیشہ یہی مؤقف رہا ہے کہ پاکستان کسی بھی پرائی جنگ کا حصہ نہ بنے بلکہ امن، بات چیت اور مفاہمت کو ترجیح دے۔ یہی راستہ ہماری عزت، استحکام اور بہتری کا ضامن ہے۔ ماضی میں کیے گئے غلط فیصلوں، خاص طور پر پرائی جنگوں میں شمولیت، کے اثرات ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ اس کے منفی اثرات خیبر پختونخوا سمیت پورے پاکستان پر گزشتہ کئی برسوں سے براہِ راست اور بالواسطہ طور پر مرتب ہو رہے ہیں، اور ہم ابھی تک اس صورتحال سے مکمل طور پر باہر نہیں نکل سکے۔

اسی تناظر میں صوبائی حکومت واضح طور پر یہ چاہتی ہے کہ افغانستان کے ساتھ بھی معاملات بات چیت اور مفاہمت کے ذریعے حل کیے جائیں تاکہ خیبر پختونخوا اور پورے پاکستان میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے خیبر پختونخوا حکومت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔ اسی پس منظر میں میرے قائد عمران خان نے کل اڈیالہ جیل سے جو پیغام دیا، وہ دراصل پاکستان اور پاکستانی عوام کے مفاد کی بات ہے۔

انہوں نے ہمیشہ قومی مفاد، امن اور عوام کی فلاح کو ترجیح دی ہے اور آج بھی اسی اصول پر قائم ہیں۔ میرے قائد عمران خان نے کل اڈیالہ جیل سے پیغام دیا، کیونکہ وہ ہمیشہ پاکستان اور عوام کی بات کرتے آئے ہیں۔ ہم ایسے لیڈر پر فخر کرتے ہیں جس کے ساتھ مسلسل زیادتی ہو رہی ہے، ناحق قید رکھا گیا ہے اور تنہائی میں بند کیا گیا ہے۔ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، جو کبھی سیاست کا حصہ نہیں رہیں، نہ کوئی عہدہ رکھا اور نہ کسی انتخاب میں حصہ لیا، انہیں بھی بلاجواز قید کر کے تنہائی میں رکھا گیا ہے۔

یہ کھلی ناانصافی، ظلم اور غیر انسانی رویہ ہے، جس کا مقصد ایک مضبوط قیادت کو جھکانا ہے۔ حالیہ دنوں میں عمران خان کے بہنوں اور کارکنوں کے ساتھ بھی سختی کی گئی، مگر اس سب کے باوجود عمران خان نے ملک کے مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اپنا جلسہ ملتوی کیا۔ یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ذاتی نہیں بلکہ قومی مفاد، امن اور پاکستان کی نیک نامی کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

اس سے پہلے ہم نے دیکھا کہ جب بھی کسی سیاسی جماعت پر سخت وقت آیا تو مختلف بیانیے اور سکینڈلز سامنے آئے، کبھی ڈان لیکس، کبھی میمو گیٹ اور کبھی مختلف سیاسی مہمات چلائی گئیں۔ کبھی جلسوں میں سخت نعرے لگے، کبھی اداروں اور شخصیات پر الزامات لگے، اور کبھی انٹرنیشنل میڈیا پر جا کر پاکستان کے بارے میں بات کی گئی۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہی  لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں، کسی کو صوبے دیے گئے ہیں اور کسی کو ملک میں اہم ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

یہ کیا پیغام دے رہے ہے کہ کیا ہم ایسے لوگوں کو عزت دیں گے جو اداروں اور ملک کے خلاف باتیں کرتے رہے، یا ان کو جنہوں نے ملک کے لیے سوچا، جو ملک کی معیشت، روزگار، صنعت، زراعت اور غریب عوام کے لیے کام کرے، اس کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟ عمران خان کے ساتھ ناحق قید اور زیادتی کے باوجود وہ ہمیشہ پاکستان کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے جلسہ بھی پاکستان کی نیک نامی کے لیے ملتوی کیا، جو اعلیٰ ظرفی کی مثال ہے۔

ہم پاکستان کے ساتھ ہیں، اور پاکستان ہم سب کا ہے۔ صرف ہمارا نہیں ہے ، اگر قربانی دینی ہے تو سب کو دینی ہوگی۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سُہیل آفریدی نے کہا کہ ایک طرف یہ اعلیٰ ظرفی ہے کہ عمران خان نے پاکستان کی نیک نامی کے لیے اپنا جلسہ ملتوی کیا، جو قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دینے کی واضح مثال ہے۔ دوسری طرف ان کی صحت کا معاملہ جوں کا توں ہے، خاص طور پر آنکھ کا مسئلہ برقرار ہے اور اس میں کوئی بہتری نظر نہیں آ رہی۔

انہیں ان کے ذاتی معالجین سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی اور نہ ہی فیملی کو باقاعدہ رسائی دی جا رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کا علاج ان کی ذاتی ڈاکٹروں کی نگرانی میں اور ان کی فیملی کی موجودگی میں کسی معیاری ہسپتال میں کیا جائے۔ یہ ان کا بنیادی انسانی حق ہے جو آئین اور قانون بھی فراہم کرتا ہے، اور اس پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔