معذور افراد نے سندھ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 میں پیش رفت کو اجاگر کرتے ہوئے چیلنجز اور عملدرآمد کے خلا کی نشاندہی کی

بدھ 15 اپریل 2026 20:50

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اپریل2026ء) معذور افراد (PWDs) نے عوامی خدمات تک بہتر رسائی کو یقینی بنانے کے لیے سندھ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 کے مثر نفاذ کا مطالبہ کیا۔ یہ مطالبہ کراچی میں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے نیشنل ڈس ایبلٹی فورم کے تعاون سے منعقدہ ایک ورکشاپ میں کیا گیا۔ شرکا، جن میں معذور افراد اور سول سوسائٹی کے اراکین شامل تھے، اس بات پر زور دیا کہ ترقی پسند قانون سازی کے باوجود، ایکٹ کی اہم شقوں پرمکمل عملدرآمد نہ ہو نیکے باعث جامع تعلیم، روزگار کے مواقع اور قابلِ رسائی عوامی خدمات تک رسائی محدود ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کاشف علی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جامع طرزِ حکمرانی کے لیے شہریوں کی فیصلہ سازی کے عمل میں بامعنی شرکت ضروری ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ اگرچہ سندھ نے SEPD ایکٹ 2018 کے نفاذ، متعلقہ اداروں کے قیام اور دیگر اقدامات کے ذریعے اہم پیش رفت کی ہے لیکن معذور افراد کو اب بھی عملدرآمد میں موجود خلا کے باعث نمایاں مشکلات کا سامنا ہیخصوصا عوامی عمارات اور ٹرانسپورٹ تک رسائی کو یقینی بنانے اور سرکاری و نجی شعبوں میں 5 فیصد ملازمت کوٹہ کے نفاذ کے حوالے سے مشکلات کا سامنا ہے ۔

سندھ پرسنز ود ڈس ایبلٹیز پروٹیکشن اتھارٹی (SPDPA) کے ڈائریکٹر جنرل فاروق احمد لغاری نے شرکا کو بتایا کہ حکومت سندھ معذور افراد کے حقوق کے فروغ میں دیگر صوبوں سے آگے ہے تاہم انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ عملدرآمد کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مزید کوششوں کی ضرورت ہے۔سندھ انفارمیشن کمیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ذوالفقار علی شیخ نے شرکا کو سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 کے بارے میں آگاہ کیا جو آئین پاکستان کے آرٹیکل 19A سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون شہریوںبشمول معذور افرادکو معلومات تک رسائی دے کر بااختیار بناتا ہیجس سے شفافیت، احتساب اور کھلے طرزِ حکمرانی کو فروغ ملتا ہے۔ آنند رام (ریٹائرڈ) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن کے جوڈیشل ممبر امداد حسین صدیقی، ڈائریکٹر،صوبائی محتسب سندھ اور حسنین حیدر پروگرام مینیجر NOWPDP نے بھی سندھ امپاورمنٹ آف پرسنز ود ڈس ایبلٹیز ایکٹ 2018 کی اہم شقوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے خصوصی اداروں کے قیام اور عملدرآمد کو مضبوط بنانے کی جاری کوششوں کو اجاگر کیاساتھ ہی صوبائی محتسب سندھ، سندھ انفارمیشن کمیشن اور سندھ ہیومن رائٹس کمیشن جیسے اداروں کے ذریعے دستیاب شکایات کے ازالے کے نظام پر بھی زور دیا تاکہ معذور افراد مثر طریقے سے عوامی خدمات تک رسائی حاصل کر سکیں اور حکمرانی کے عمل میں حصہ لے سکیں۔ طارق حسین پروگرام مینیجر ND، نسرین میمن پروجیکٹ کوآرڈینیٹر اور فریحہ فاطمہ پروگرام ایسوسی ایٹ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے بھی شرکا کو حکومت سندھ کے اندر قانونی حقوق اور شکایات کے ازالے کے طریقہ کار کے بارے میں مزید آگاہ کیا۔