ایچ ای سی پاکستان کے نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے تحت تقریباً 50 ہزار پسماندہ طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں

جمعہ 17 اپریل 2026 18:21

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 اپریل2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)پاکستان کے نیڈ بیسڈ اسکالرشپ پروگرام کے تحت تقریباً 50 ہزار مالی طور پر پسماندہ طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کیے جا چکے ہیں۔ حکام کے مطابق 2012 سے جاری اس پروگرام کے تحت اب تک ملک بھر سے 46 ہزار 824 مستحق طلباء مستفید ہو چکے ہیں۔ ایچ ای سی کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام بالخصوص مالی مشکلات کا شکار انڈرگریجویٹ طلباء کے لیے ترتیب دیا گیا ہے، جس کے تحت نہ صرف مکمل ٹیوشن فیس ادا کی جاتی ہے بلکہ طلباء کو ماہانہ وظیفہ بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

طلباء کا انتخاب شفاف طریقہ کار کے تحت ان کی مالی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جاتا ہے، جبکہ اس عمل میں جامعات کی ادارہ جاتی اسکالرشپ ایوارڈ کمیٹیاں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

(جاری ہے)

اعداد و شمار کے مطابق صرف تعلیمی سال 25۔2024 کے دوران 3 ہزار 946 طلباء کو وظائف دیے گئے، جس سے اس پروگرام کی وسعت اور اثر پذیری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ ماہرین تعلیم کے مطابق یہ اسکیم نہ صرف پسماندہ طبقات کے نوجوانوں کو بااختیار بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہے بلکہ ملک میں معیاری تعلیم کے فروغ، صنفی مساوات کے قیام، عدم مساوات میں کمی اور پائیدار معاشی ترقی کے اہداف کے حصول میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

حکام کا مزید کہنا ہے کہ حکومت پاکستان نے طلباء کو درپیش مالی مشکلات کے پیش نظر ایچ ای سی کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ مستحق نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے مواقع فراہم کرے، تاکہ وہ بہتر مستقبل کی جانب گامزن ہو سکیں اور ملک کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کریں۔