وفاقی اردو یونیورسٹی میں 10 سے زائد شعبہ جات بند ہونے کا خدشہ

سندھی ڈیپارٹمنٹ اور دیگر شعبوں میں کم داخلوں کے باعث وفاقی اردو یونیورسٹی نے تدریسی عمل روک دیا

جمعرات 30 اپریل 2026 23:23

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اپریل2026ء) وفاقی اردو یونیورسٹی کی انجمن اساتذہ کے صدر روشن سومرو، جنرل سیکریٹری ڈاکٹر سید اقبال نقوی اور سندھی ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سیما ابڑو نے کم داخلوں کی بنیاد پر تدریسی عمل معطل کرنے پر 10 سے زائد ڈپارٹمنٹ بند ہونے کے خدشات پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انجمن اساتذہ کے صدر روشن سومرو نے کہا کہ وائس چانسلر نے 2024 میں ایک پالیسی متعارف کروائی، جس کے تحت جن شعبوں میں 25 سے کم طلبہ داخلہ لیں گے وہاں تدریسی عمل نہیں چلایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ طلبہ دشمن ہے کیونکہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کا مقصد نفع و نقصان دیکھنا نہیں بلکہ محدود وسائل میں معیاری تعلیم فراہم کرنا ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ اس پالیسی کے تحت سندھی ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ عربی، پاکستان اسٹڈیز، اسپیشل ایجوکیشن اور دیگر شعبوں میں بھی تدریسی عمل روک دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وائس چانسلر اکثر یکطرفہ فیصلے کرتے ہیں، جس کی ہم پہلے بھی مخالفت کر چکے ہیں اور اب بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔

انجمن اساتذہ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر اقبال نقوی نے کہا کہ اگر اس پالیسی پر عمل جاری رہا تو آدھی یونیورسٹی بند ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیاں داخلوں کی تعداد کی بنیاد پر تعلیم نہیں دیتیں بلکہ اگر صرف 5 طلبہ بھی داخلہ لیں تو انہیں پڑھانا ادارے کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس فیصلے کو انتظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے اکیڈمک کونسل سے مطالبہ کیا کہ اسے واپس لیا جائے۔

سندھی ڈیپارٹمنٹ کی چیئرپرسن ڈاکٹر سیما ابڑو نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے اس پالیسی پر عمل ہو رہا ہے، جس کے تحت 25 سے کم طلبہ ہونے کی صورت میں شعبوں میں پڑھائی متاثر ہوتی ہے، جس سے خدشہ ہے کہ مستقبل میں یہ شعبے مکمل طور پر بند ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے طلبہ اور اساتذہ میں مایوسی پھیلتی ہے۔دوسری جانب طلبہ نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی مرضی سے ڈیپارٹمنٹ کا انتخاب کرتے ہیں، لیکن جب یونیورسٹی پہنچتے ہیں تو بتایا جاتا ہے کہ اس شعبے میں کلاسز نہیں ہوں گی، جو انتظامیہ کی نااہلی اور طلبہ دشمن فیصلہ ہے۔

طلبہ کا کہنا تھا کہ ہزاروں روپے کے چالان جمع کروانے کے بعد داخلہ دیا جاتا ہے، مگر بعد میں کم داخلوں کا جواز بنا کر پڑھائی نہ کروانا ذہنی اذیت کے مترادف ہے اور ہمارے مستقبل سے کھیلنے کے برابر ہے۔طلبہ نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کا نوٹس لیا جائے اور انتظامیہ کے خلاف کارروائی کی جائے تاکہ وہ اپنے پسندیدہ شعبوں میں تعلیم حاصل کر سکیں۔