اسرائیل بغیر الزام زیر حراست فلسطینی ڈاکٹرز کو رہا کرے، انسانی حقوق تنظیم

جمعہ 1 مئی 2026 10:09

تل ابیب (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 مئی2026ء) انسانی حقوق کی تنظیم فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں غزہ سے تعلق رکھنے والے ان 14 فلسطینی ڈاکٹروں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے جو ایک سال سے زیادہ عرصے سے بغیر کسی الزام کےحراست میں ہیں۔العربیہ اردو کے مطابق تنظیم نے کہا کہ ڈاکٹروں کو مناسب طبی دیکھ بھال اور خوراک سے محروم رکھا جا رہا ہے اور حراست کے دوران انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ڈاکٹرز کو اسرائیل کے ’’ غیر قانونی جنگجو‘‘ قانون کے تحت حراست میں رکھا گیا ہے۔ یہ قانون بغیر کسی الزام کے غیر معینہ مدت تک حراست کی اجازت دیتا ہے۔غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر زیر حراست حسام ابو صفیہ کے وکیل ناصر عودہ نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے ان سے تفتیش کرنے اور ان کے خلاف کسی قسم کے ثبوت یا اسرائیلی قانون کے مطابق کسی بھی خلاف ورزی میں ملوث ہونے کا ثبوت نہ ملنے کے باوجود، پراسیکیوشن نے انہیں غیر قانونی جنگجو قانون کے تحت حراست میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

(جاری ہے)

اسرائیلی جیل سروس نےبتایا کہ وہ جیل میں ڈاکٹروں کے ساتھ بدسلوکی کے تمام الزامات کو مسترد کرتی ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ عدالت اس درخواست پر کب غور کرے گی۔