خیبرمیڈیکل یونیورسٹی اور آغا خان یونیورسٹی کے اشتراک سے ایم بی بی ایس نصاب میں جنس اور صنفی تعلیم کی شمولیت کے منصوبے کا آغاز

پیر 4 مئی 2026 17:37

پشاور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 04 مئی2026ء) پاکستان میں طبی تعلیم کو جدید، منصفانہ اور شواہد کی بنیاد پر استوار کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے خیبر میڈیکل یونیورسٹی (کے ایم یو) پشاورنے آغا خان یونیورسٹی کراچی کے تعاون سے ایک خصوصی منصوبے کے 'Aim 3' پائلٹ فیز کا آغاز کر دیا ہے۔تر جمان کے ایم یو پشاور کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ایم بی بی ایس کے نصاب میں حیاتیاتی جنس اور سماجی صنف کے پہلوؤں کو شامل کرنا ہے۔

بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن کے تعاون سے شروع ہونے والے اس منصوبے کا مقصد طبی تعلیم میں موجود ان خامیوں کو دور کرنا ہے جہاں امراض کی تشخیص اور علاج میں صنفی فرق اور سماجی عوامل کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔واضح رہے کہ عالمی سطح پر یہ ثابت ہو چکا ہے کہ دل کے امراض، ہڈیوں کے مسائل، سرجری، دماغی صحت اور پبلک ہیلتھ جیسے شعبوں میں علامات کی شدت اور علاج کا اثر مرد و خواتین میں مختلف ہو سکتا ہے لہٰذا پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں ان پہلوؤں کوطبی نصاب کا حصہ بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

(جاری ہے)

منصوبے کے عملی نفاذ کے سلسلے میں کے ایم یو انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسزکوہاٹ میں دو روزہ تربیتی ورکشاپ منعقد کی گئی۔ اس ورکشاپ میں ایم بی بی ایس فائنل ایئر کے فیکلٹی ممبران کو کلینیکل ٹریننگ اور امتحانات میں صنفی تصورات کو شامل کرنے کی عملی تربیت دی گئی۔یاد رہے کہ اس اہم اقدام کی قیادت خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق اور آغا خان یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر زینب صمد مشترکہ طور پر کر رہے ہیں ۔

کے ایم یو میں اس پائلٹ فیز کی سربراہی ڈاکٹر ماریہ اسحاق خٹک کر رہی ہیں جبکہ ورکشاپ کے انتظامات میں ڈاکٹر حمیرا ادیب، ڈاکٹر بشریٰ محبوب اور ڈاکٹر سیدہ سائرہ بخاری نے ان کی معاونت کی ۔ اس سلسلے میں کے ایم یو کی ڈین کلینیکل سائنسز پروفیسر ڈاکٹر فوزیہ گل اورکمز کوہاٹ کی پرنسپل پروفیسر ڈاکٹر مسرت جبین نے بھی بھرپور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا۔

طبی ماہرین تعلیم کے مطابق یہ پائلٹ فیز تحقیق سے عملی نفاذ کی جانب ایک اہم منتقلی ہے۔ اس کے نتائج کی روشنی میں مستقبل کے ڈاکٹروں کو اس قابل بنایا جائے گا کہ وہ زیادہ درست، جامع اور بلا تفریق طبی سہولیات فراہم کر سکیں۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس اقدام سے پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو طبی تعلیم کو عالمی معیار کے مطابق ڈھال رہے ہیں یہی وجہ ہے کہ طبی تعلیمی حلقوں میں اس اقدام کووقت کی ضرورت اور ایک اہم کامیابی کے طور پر دیکھا جارہاہے۔