ناردرن بائی پاس پر قائم مویشی منڈی خریداروں کو اپنی جانب متوجہ نہیں کرسکی

منڈی کا شہر سے 65 سے 70 کلومیٹر دور ہونا اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہے

پیر 4 مئی 2026 18:15

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 04 مئی2026ء) عید قرباں میں ایک ماہ سے بھی کم وقت رہنے کے باوجود ناردرن بائی پاس پر قائم منڈی خریداروں کو اپنی جانب متوجہ نہیں کرسکی ۔ منڈی کا شہر سے 65 سے 70 کلومیٹر دور ہونا اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتیں اس کی بڑی وجوہات میں شامل ہے ۔انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے عید قرباں قریب آئے گی، ویسے ویسے خریداروں کی آمد میں تیزی آئے گی اور منڈی مکمل طور پر فعال ہو جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی خرید و فروخت کے لیے ایشیا کی سب سے بڑی عوام دوست مویشی منڈی قائم کر دی گئی ہے، جہاں یکم مئی 2026 سے ملک بھر کے مختلف شہروں سے جانوروں کی آمد کا سلسلہ باقاعدہ شروع ہو چکا ہے۔ اس سال مویشی منڈی تقریبا 1100 ایکڑ کے وسیع رقبے پر قائم کی گئی ہے، جہاں اب تک ایک لاکھ سے زائد بڑے اور چھوٹے جانور لائے جا چکے ہیں، جبکہ انتظامیہ کے مطابق عید قرباں تک 5 لاکھ سے زائد جانوروں کی آمد متوقع ہے۔

(جاری ہے)

انتظامیہ کی جانب سے پانی ،چارہ اور دیگر ضروریات کے سامان کی خریداری کے لیے بھی ٹھیکے دیئے گئے ہیں ۔چھوٹے اسٹالز سے 50ہزار،ہوٹلوں اور دیگر بڑے اسٹالز سے 20سے 25دن کے لیے 8لاکھ روپے تک وصول کیے جارہے ہیں ۔ منڈی میں فی جانور 30لٹر پانی فراہم کیا جارہا ہے جبکہ ایک جانور روزانہ کا 600روپے کا پانی پی رہا ہے ۔اس طرح بیوپاری کو 400روپے کے پانی کی خریداری خود کرنی پڑتی ہے ۔

منڈی انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق جانوروں کی انٹری فیس مقرر کی گئی ہے، جس کے تحت بڑے جانوروں کے لیے 4 ہزار روپے جبکہ بھیڑ بکریوں کے لیے 1600 روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔ اسی طرح گاڑیوں کے داخلے کے لیے 4 ہزار روپے اور موٹر سائیکل کے لیے 1500 روپے فیس مقرر ہے۔منڈی میں صفائی، سیکیورٹی، پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ میڈیا سیل بھی قائم کیا گیا ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اعداد و شمار اور صورتحال سے آگاہی فراہم کر رہا ہے۔

متعلقہ عنوان :