وفاقی وزیرتجارت سے فلپ مورس انٹرنیشنل کے وفد کی ملاقات، تمباکو کے شعبے کو درپیش چیلنجزپر تبادلہ خیال

جمعرات 7 مئی 2026 17:00

وفاقی وزیرتجارت سے فلپ مورس انٹرنیشنل کے وفد کی ملاقات، تمباکو کے شعبے ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 07 مئی2026ء) وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان سے فلپ مورس انٹرنیشنل (سی آئی ایس اینڈ سینٹرل ایشیا)کے صدرمارکو ماریوٹی کی قیادت میں وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاکستان میں تمباکو کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجز بشمول غیر قانونی تجارت، ریگولیٹری خلا اور برآمدی امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات کے دوران وفد نے وفاقی وزیر تجارت کو پاکستان میں سگریٹ کی غیر قانونی تجارت میں اضافے کی رفتار پر بریفنگ دی، جس میں بتایا گیا کہ مارکیٹ کا ایک اہم حصہ غیر دستاویزی ہے، جس کے نتیجے میں ا?مدنی میں تقریباً 350 ارب روپے سالانہ کا نقصان ہو رہا ہے۔ تقریباً 45 سے 47 ارب سگریٹ ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر فروخت ہو رہے ہیں، جس سے رسمی شعبے کی نمو متاثر ہو رہی ہے۔

(جاری ہے)

وفد نے نشاندہی کی کہ اگرچہ رجسٹرڈ کمپنیاں سخت ریگولیٹری فریم ورک کے تحت کام کرتی ہیں لیکن غیر دستاویزی پیداوار اور معاہدوں کا غلط استعمال غیر رسمی عناصرکو خام مال تک رسائی اور غیر قانونی مینوفیکچرنگ کو بڑھانے کے قابل بناتا ہے۔شرکا نے اس بات پر زور دیا کہ یہ مسئلہ ٹیکس سے باہر ہے، جس میں غیر دستاویزی آمدنی، منی لانڈرنگ، اور وسیع تر معاشی بگاڑ سے متعلق خدشات ہیں۔

وفد نے اس بات پر زور دیا کہ قانون، ٹیکس سٹیمپ سسٹم اور ضوابط پہلے سے موجود ہیں، لیکن ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ ملاقات میں پاکستان ٹوبیکو بورڈ (PTB)کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پروگرام کے تحت پاکستان کے وعدوں سے پیدا ہونے والے پالیسی چیلنجز کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر درآمدی پابندیوں کو بتدریج ہٹانے اور تجارتی اور صنعتی درآمد کنندگان کے ساتھ مساوی سلوک کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔